The news is by your side.

Advertisement

طلبا ’ناقص طبی سہولیات والے ممالک جیسے امریکا‘ سے واپس آجائیں: ناروے کی اپیل

اوسلو: ناروے کی ایک یونیورسٹی نے اپنے طلبا سے کہا ہے کہ وہ ’ناقص طبی سہولیات والے ممالک جیسے امریکا‘ سے واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ناروے کی عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی نارویجیئن یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی نے ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں انتظامیہ نے اپنے طلبا سے ناروے واپس لوٹنے کی اپیل کی ہے۔

اپنے پیغام میں یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ دفتر خارجہ کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری اپنے طلبا کے لیے تجویز ہے کہ اگر وہ ناروے سے باہر ہیں تو اپنے گھروں کو لوٹ آئیں۔

یونیورسٹی نے کہا ہے کہ یہ تجویز ان افراد کے لیے خاص طور پر ہے جو ناقص طبی سہولیات رکھنے والے ممالک میں موجود ہیں، جیسے کہ امریکا۔

خیال رہے کہ ناروے نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے پیش نظر پیر سے اپنے تمام ایئرپورٹس اور بندرگاہ غیر ملکی افراد کے لیے بند کردیے ہیں، صرف ناروے کے شہریوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی جارہی ہے اور انہیں 14 دن قرنطینیہ میں رکھا جارہا ہے۔

یونیورسٹی کے اس پیغام پر ٹویٹر پر ملا جلا ردعمل موصول ہورہا ہے، امریکیوں کی بڑی تعداد نے اس بیان پر ناروے پر تنقید کی۔

ایک صارف نے کہا کہ ناروے اپنے شہریوں کو کہہ رہا ہے کہ اگر آپ تیسری دنیا کے کسی ملک میں موجود ہیں جیسے امریکا، تو واپس ناروے لوٹ آئیں۔

ایک امریکی صارف نے لکھا کہ باقی دنیا کی طرح ناروے بھی ہم پر ہنس رہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا میں اب تک کرونا وائرس کے 4 ہزار 700 سے زائد کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 93 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

ناروے میں اب تک کرونا وائرس کے 13 سو 66 کیس سامنے آئے ہیں اور 3 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں