The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ: چاقو زنی کی واردات میں مزید ایک شخص‌ ہلاک

لندن : برطانیہ میں چاقو زنی کی واردات میں ایک اور شہری زخمی ہوگیا، جسے شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے شہر نورفلوک کی پولیس نے چاقو کے وار سے زخمی ہونے والے شہری کی ہلاکت کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے 20 سالہ نوجوان کو حراست میں لے لیا یے۔

نورفولک پولیس کا کہنا تھا کہ پولیس کو ناروچ کو جمعے کی رات کال موصول ہوئی کہ ناروچ کے سٹی سینٹر کار پارکنگ میں ایک 40 سالہ شخص کو چاقو سے حملہ کرکے شدید زخمی کردیا گیا ہے جو بعد میں ہلاک ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ متاثرہ شخص کو شدید زخمی حالت میں سٹی سینٹر سے ناروچ اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم وہ جانبر نہیں ہوسکا۔ پولیس تاحال متاثرہ شخص کی شناخت پتہ لگانے میں ناکام ہے۔

پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اداروں نے سٹی سینٹر میں چاقو زنی کے واقعے میں قتل ہونے والے شخص پر حملے کے شبے میں 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا تھا جو فی الحال پولیس کی حراست میں ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی پولیس نے شہری کے قتل کے بعد اہل علاقہ سے گزارش کی ہے کہ حادثے کی معلومات پولیس تک پہنچائیں تاکہ حملہ آور کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

برطانوی خفیہ ایجنسی کے اہلکار لین کوز کا کہنا تھا کہ ’پولیس کیس کی تفتیش کررہی ہے لیکن ابھی ہم تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں ہیں، البتہ سٹی سینٹر میں شہری پر ہونے والا حملہ اچانک نہیں تھا‘۔

خفیہ ایجنسی کے اہلکار کا کہنا تھا کہ ’واقعے کی مکمل تحقیقات کرنے کے لیے پولیس کو مزید وقت درکار ہے، سیکیورٹی اداروں نے سٹی سینٹر میں شہری کے قتل کے بعد علاقے میں پولیس کی نفری بڑھا دی ہے‘۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں چاقو زنی کی وارداتوں میں رواں سال اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور متعدد افراد اپنی جان سےجا چکے ہیں، جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ لندن کو بندوقوں کے حملوں نے نہیں بلکہ چاقو کے حملوں نے وار زون میں تبدیل کردیا ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں رواں سال چاقو زنی کی وارداتوں میں 50 سے زائد افراد قتل ہوچکے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں