The news is by your side.

دسویں قسط: پُر اسرار ہیروں والی گیند اور دہشت بھری دنیا

پہلی کتاب: آتشی پتھر........................... باب: بارہ ہیرے اور جادوئی گولا

نوٹ: یہ طویل ناول انگریزی سے ماخوذ ہے، تاہم اس میں کردار، مکالموں اور واقعات میں قابل ذکر تبدیلی کی گئی ہے، یہ نہایت سنسنی خیز ، پُر تجسس، اور معلومات سے بھرپور ناول ہے، جو 12 کتابی حصوں پر مشتمل ہے، جسے پہلی بار اے آر وائی نیوز کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

"شہنشاہ رالفن نے لومنا کو اپنا جادوگر بنا لیا لیکن وہ اسے صرف اچھے کاموں کے لیے استعمال کرتا تھا۔ جنگوں میں بھی جادوگر مدد کے لیے آگے آتا لیکن رالفن اسے منع کر دیتا۔ بادشاہ لومنا سے دو مواقع پر مدد لیا کرتا تھا؛ ایک جب اسے اپنی رعایا کی بیماریوں اور کمزوریوں کو دور کرنا ہوتا تھا، دوم جب اچانک قحط پڑ جاتا تھا۔ قحط کی صورت میں بادشاہ لومنا کو غذا کی فراہمی کے کام پر لگا دیتا تھا۔ ایک جنگ کے دوران رالفن شدید زخمی ہو گیا۔ لومنا کو اپنے بادشاہ سے بہت پیار تھا، اور وہ اس کا شکر گزار بھی تھا، اس نے بادشاہ کی جان بچا لی۔ جب رالفن صحت یاب ہو گیا تو لومنا نے عرض کیا کہ وہ انھیں ایک خاص تحفہ دینا چاہتا ہے۔ یہ کہہ کر وہ غائب ہو گیا، اور ساری دنیا میں گھوم پھر کر بارہ ہیرے جمع کیے۔ پھر ایک سنار سے کہہ کر ایک سنہری گیند بنوائی، ایک ایسی گیند جس پر یہ بارہ ہیرے رکھنے کی جگہیں بنی ہوئی تھیں۔ یہ باتیں اس نے بہت راز میں رکھیں۔ ان میں سے ہر ہیرا رالفن کی ایک ایک بیوی کے لیے تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اسے ہر حال میں بارہ ہی ہیرے جمع کرنے ہیں کیوں کہ رالفن اپنی تمام بیویوں کو بہت چاہتا تھا، یہ اور بات تھی کہ اس کی بیویاں حسد میں مبتلا تھیں۔ ہر ایک خود کو زیادہ اہم ثابت کرنے کی کوشش میں لگی ہوتی تھی۔ یہاں ان بیویوں کی فہرست بھی دی ہوئی ہے، کیا آپ لوگ اسے سنا پسند کریں گے؟”

اینگس نے ٹھہر کر ان کی جانب دیکھا۔ فیونا کو ان بیویوں کے ناموں میں دل چسپی محسوس نہیں ہو رہی تھی لیکن اس نے دیکھا کہ خود اینگس کے چہرے پر جوش کے آثار چھائے ہوئے ہیں، تو اس نے بے دلی سے کہا۔ "جی انکل سنائیے۔” وہ اینگس کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتی تھی، کیوں کہ وہ دیکھ رہی تھی کہ اینگس کو کتاب میں دی ہوئی معلومات میں بے حد دل چسپی محسوس ہو رہی ہے۔ اینگس سنانے لگا۔ "ان میں ہر بیوی دنیا کے مختلف علاقے سے آئی ہوئی تھی، اور رالفن کی پہلی بیوی کا نام پولا تھا، وہ پونِک تھی۔”

"پونِک… اس کا کیا مطلب ہے؟” جبران نے ناک کھجائی۔

"اس کا مطلب ہے کہ پولا ہیڈرمیوٹم سے آئی تھی۔ جب ان کی شادی ہوئی تو اس وقت دونوں کی عمر صرف بیس سال تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ رالفن یا تو بورل سے وہاں گیا تھا یا پھر وہ کسی دور میں وہاں رہا ہوگا۔ جو لوگ کارتھیج کے آس پاس رہتے تھے، وہ پونیشیائی نسل سے تعلق رکھتے تھے، اسے مختصر طور پر پونِک کہتے تھے۔”

"اس میں تو کافی تفصیل درج ہے۔” جبران حیران ہوا۔

"ہاں ، آگے سنو۔” اینگس سر اٹھائے بغیر بولے۔ "اس کی دوسری بیوی فرانک تھی، اس کا نام بطینی تھا۔ اس سے پہلے کہ تم میں سے کوئی پوچھے میں خود بتا دیتا ہوں کہ فرانکس دراصل فرانسیسی تھے، جنھیں آج ہم فرنچ کہتے ہیں۔ اس وقت رالفن کی عمر تئیس برس تھی جب کہ بطینی انیس سال کی تھی۔ تیسری بیوی کا نام آبدی تھا، وہ ناک تھی۔”

تینوں ہنسنے لگے۔ "یہ ناک کیا ہے؟” فیونا بے خیالی میں اپنی ناک مسلنے لگی۔ "یہ کون سا ملک ہے؟”

"بری بات ہے، اگر تم لوگ کسی بات کے بارے میں علم نہیں رکھتے تو اس کے متعلق ہنسنا نہیں چاہیے۔” اینگس نے بہ ظاہر ناراضی کا اظہار کیا۔

"سوری …. سوری انکل۔” انھوں نے جلدی سے معذرت کی۔ وہ بتانے لگے۔ "ناکس دراصل افریقا میں نائجیریا کی ثقافت والے لوگ ہیں۔ وہ لوہے سے چیزیں بنانے میں ماہر تھے۔ وہ اس وقت بہ مشکل سترہ سال کی تھی، اور غالباً شہزادی تھی، جب کہ بادشاہ رالفن اب چھبیس برس کا ہو گیا تھا۔ اس کی چوتھی بیوی حضرہ رومن تھی۔ اس کی عمر بھی انیس سال تھی جب کہ رالفن انتیس سال کا تھا۔ پانچویں بیوی جرمن تھی جس کا نام گریسلڈا تھا، وہ تمام بیویوں میں سب سے زیادہ خوب صورت تھی۔ اس کے بال نقرئی سنہری تھے اور آنکھیں سمندر کی طرح نیلی تھیں۔ رالفن کی عمر اس سے شادی کے وقت بتیس سال تھی اور گریسلڈا اٹھارہ سال کی تھی، چھٹی بیوی کا نام لیلا تھا، وہ بھارت سے تھی۔”

"بھارت… میں نے تو یہ نام پہلے کبھی نہیں سنا۔” فیونا جلدی سے بولی۔ اس سے پہلے کہ اینگس جواب دیتا، جبران نے فوراً بول پڑا۔ "میں بتاتا ہوں، یہ انڈیا کا سنسکرت نام ہے، اور ہمارا پڑوسی ملک ہے۔”

"ہاں انڈیا سنا ہے میں نے۔” فیونا نے اثبات میں سر ہلایا۔

اینگس کتاب پڑھنے لگے۔ "لیلا کے بال لمبے سیاہ تھے اور اسی طرح آنکھیں بھی سیاہ کٹار تھیں۔ جب ان کی شادی ہوئی تو بادشاہ پینتیس سال کا جب کہ لیلا اکیس برس کی تھی۔

(جاری ہے….)

Comments

یہ بھی پڑھیں