The news is by your side.

Advertisement

اب سخت جان جراثیم کا خاتمہ بھی ممکن! سائنس دانوں کو بڑی کامیابی مل گئی

سویڈئش سائنس دانوں نے سخت جان چراثیم کے خاتمے کےلیے منفرد قسم کا جیلی دار مادہ (ہائیڈروجیل) تیار کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ، کے ٹی ایچ رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور کیرولنسکا یونیورسٹی ہاسپٹل کے ماہرین نے مشترکہ طور تیار کردہ مادہ سے ڈھیٹ جراثیم کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔

تکنیکی زبان میں ’’ہائیڈروجیل‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا بیشتر حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ وہ کسی ٹوتھ پیسٹ یا جیلی کی طرح بہت نرم ہوتے ہیں۔

جرنل آف امریکن کیمیکل سوسائٹی کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، یہ جیلی دار مادّہ ایک طرف ڈھیٹ اور سخت جان جراثیم کا خاتمہ کرتا ہے تو دوسری جانب ہمارے مدافعتی نظام (امیون سسٹم) کو بھی انفیکشنز کے خلاف مضبوط بناتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہائیڈروجیل کی تیاری میں ’ڈیڈرائیٹک میکرومالیکیولز‘ کہلانے والے خصوصی پولیمرز استعمال کیے گئے ہیں جو زہریلے نہیں ہوتے۔

جب ان پولیمرز کا اسپرے زخم پر چھڑکا جاتا ہے تو یہ فوری طور پر ہائیڈروجیل کی شکل میں آجاتے ہیں اور زخم کے گرد حفاظتی حصار بناتے ہوئے اسے گرد و غبار سے بچاتے ہیں۔

سائنس دانوں کا اپنی تحقیق میں کہنا ہے کہ ہائیڈروجیل میں موجود پولیمرز تیزی سے جراثیم کو ہلاک کرنے لگتے ہیں لیکن ان کا طریقہ کار اینٹی بایوٹکس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔

پھلوں کے چھلکوں پر تجربہ، ماہرین کو بڑی کامیابی مل گئی

خیال رہے کہ اس سے قبل سنگاپور کے ماہرین نے پھلوں کے چھلکے سے زخم کی جراثیم کش پٹیاں بنانے کا کامیاب تجربہ کیا تھا، یہ جراثیم کش پٹیاں بھی دراصل ہائیڈرو جیل تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں