The news is by your side.

Advertisement

سندھ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 181 ہو گئی

کراچی: ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں 181 لوگ کرونا وائرس کا شکار ہیں، تفتان سے آئے لوگوں میں تقریباً 50 فی صد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

آج کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ حکومت کے ترجمان نے کہا کہ اب تک 290 ٹیسٹس کا نتیجہ آ چکا ہے، 147 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی، جب کہ 143 افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا، 290 افراد تفتان سے سکھر کے قرنطینہ سینٹر لائے گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ کرونا وائرس میں مبتلا کراچی میں 36 لوگوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے، یہ تعداد 38 تھی تاہم 2 مریض صحت یاب ہو کر گھر جا چکے ہیں، مجموعی طور پر سندھ بھر میں 181 لوگ کرونا وائرس کا شکار ہیں۔

تازہ ترین:  سندھ بھر کے اسپتالوں میں او پی ڈی معطل، قرنطینہ سروس شروع

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ سندھ بھر میں اب تک 3 اسپتالوں میں 844 لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں، آغا خان میں 506، اوجھا کیمپس میں 61، انڈس اسپتال میں 277 ٹیسٹ ہوئے۔ وفاق نے آغا خان اور اوجھا کیمپس کو صرف 100 ، 100 کٹس دیں۔ سندھ حکومت نے 10 ہزار ٹیسٹس کرنے کی سہولت امپورٹ کی ہے، وفاق سے ہمیں ابھی تک صرف 200 کٹس موصول ہوئی ہیں۔

انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ اجتماعی بھلائی کے لیے سندھ حکومت کے ریسٹورنٹس اور شاپنگ مالز بندش اور دیگر فیصلوں پر ساتھ دیا جائے، سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم خود کو 14 دن کے لیے قرنطینہ کر لیں۔ بندش کے فیصلے کا اطلاق دواؤں، پرچون، کریانوں، گروسری کی دکانوں پر نہیں ہوگا، سندھ حکومت کے فیصلے پر ابھی تک 100 فی صد عمل درآمد نہیں ہوا، دکانوں کو بند کرنے کے لیے کمشنر کراچی، پولیس حکام کو واضح احکامات ہیں، سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا گیا تو سخت اقدامات کریں گے۔

تازہ ترین:  آج سے شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس، الیکٹرانکس، کپڑے، فرنیچر کی مارکیٹیں بند

ترجمان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے کرونا وائرس پر فنڈ قائم کر رہے ہیں، جس میں سندھ حکومت 3 ارب روپے دے رہی ہے، پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی نے ایک ماہ کی پوری تنخواہ فنڈ کے حوالے کی ہے، نیک لوگوں نے سندھ حکومت سے رجوع کیا اور مدد کی پیش کش کی، فنڈز کے استعمال کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی چیف سیکریٹری سندھ کریں گے، دوسرے رکن سیکریٹری خزانہ ہوں گے، کمیٹی میں پرائیوٹ سیکٹر کے بھی 3 نمایندے شامل ہوں گے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں