The news is by your side.

Advertisement

دو آف شور کمپنیوں‌ کا انکشاف، مالک خود سامنے آگیا، اے آر وائی سے خصوصی گفتگو

اسلام آباد: وزیراعظم کے لاہورکےگھر سے ملتےجلتے ایڈریس پر 2آف شورکمپنیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق آف شورکمپنیز کے ڈیٹابیس میں مزید2آفشورکمپنیوں کا انکشاف سامنے آیا، جن کے ایڈریس لاہور کے زمان پارک کے پتے پر درج ہیں۔

ہاک فیلڈ لمیٹڈ اور لاک گیٹ انویسٹمنٹ نامی کمپنیاں سی شیلز میں رجسٹرڈ ہیں، جن کا ایڈریس وزیراعظم عمران خان کی لاہور میں موجود رہائش گاہ زمان پارک کا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ دونوں آف شورکمپنیاں فریدالدین اوراس کےدوست کےنام پردرج ہیں، جب اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کی گئیں تو معلوم ہوا کہ کمپنیوں کا ایڈریس وزیراعظم کے گھر کے پتے سے ملتا جلتا ہے۔

لاک گیٹ انویسٹمنٹ نامی آف شور کمپنی فریدالدین جبکہ ہاک فیلڈ لمیٹڈ نامی کمپنی فریدالدین کےدوست کےنام پردرج ہے۔ آف شور کمپنی کا مالک فریدالدین زمان پارک کارہائشی ہے اور وزیراعظم عمران خان کے گھر سے ملتےجلتے ایڈریس پر رہائش پذیر ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے کے اینکر پرسن اور انویسٹی گیٹو جرنسلٹ کا کہنا ہے کہ کمپنی اور عمران خان کے گھر کے پتے میں یکسانیت ضرور ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کا کمپنیوں سےتعلق نہیں ہے۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز نے اس بات کا سراغ لگایا کہ زمان ٹاؤن میں ایک جیسے نمبر کے دو مکانات موجود ہیں، جن میں سے ایک میں آف شور کمپنی کا مالک فرید الدین رہائش پذیر ہے۔

آف شورکمپنیوں کے مالک فریدالدین نے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’لاک گیٹ نامی  آف شورکمپنی 2008 میں بنائی تھی جبکہ ہاک فیلڈ لمیٹڈنامی کمپنی دوست کےنام پربنائی۔

انہوں نے بتایا کہ ’میرا اور عمران خان کا برکی برادری سے تعلق ہے اورملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، عمران خان سے وزیراعظم بننےکے بعد ملاقات نہیں ہوئی، آف شورکمپنی میری ہے اور اس کا وزیراعظم عمران خان سے کوئی تعلق نہیں ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ زمان پارک میں3گھرایسےہیں جن کا ایڈریس ایک ہی ہے، لاک گیٹ انویسٹمنٹ نامی آف شورکمپنی میری تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان کے پاس آف شورکمپنیاں رکھنے والےکئی پاکستانیوں کا ریکارڈ موجود ہے، جن پر قومی احتساب بیورو نیب تحقیقات کررہا ہے۔

واضح رہے کہ پانامہ لیکس کی طرز پر عالمی صحافتی ادارہ آئی سی آئی جے کی جانب سے ایک نئی رپورٹ جلد شائع ہونے جارہی ہے، جس میں دنیا بھر کی مختلف شخصیات کے نام ہیں، پاکستان میں عالمی ادارے کے ساتھ کام کرنے والے صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ کئی پاکستانی شخصیات کے نام بھی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں