بھارت: 6 سالہ بچی کی ادھیڑ عمر شخص سے زبردستی شادی
The news is by your side.

Advertisement

بھارت: 6 سالہ بچی کی ادھیڑ عمر شخص سے زبردستی شادی

نئی دہلی: بھارتی ریاست راجستھان میں پنچائیت کے فیصلے پر 6 سالہ معصوم بچی کی 35 سالہ ادھیڑ عمر شخص کے ساتھ زبردستی شادی کرادی گئی۔

بھارت میں کروڑوں کی آبادی ہونے کے باعث کئی علاقوں میں سرکاری مشینری کام نہیں کرتی جس کے باعث عوام کو کئی پچیدہ مسائل جیسے ناخواندگی اور غربت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بالخصوص ان وجوہات کے باعث کم عمری میں شادیاں کروانے کا رواج آج بھی جاری و ساری ہے۔

بھارت میں ناخواندگی کے باعث اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہورہا تھا جس کے بعد ایوان میں باقاعدہ قانون سازی کی گئی اور کم عمری میں لڑکے یا لڑکی کی زبردستی شادی کو سنگین جرم قرار دیا گیا۔

مگر راجھستان کے علاقے چتور گڑھ میں پانچ روز قبل دلخراش واقعہ پیش آیا کہ جب 35 سالہ ادھیڑ عمر شخص کی شادی 6 سالہ بچی کے ساتھ زبردستی کردی گئی۔

مزید پڑھیں: اٹھارہ سال سے کم عمرلڑکی سے شادی زنا تصور ہوگی، انڈین کورٹ

بھارتی میڈیا کے مطابق پنجائیت کے سربراہ رتن جت نے فیصلہ سنایا جس کے بعد دونوں خاندان اس پر عمل درآمد کے لیے راضی ہوئے، پولیس مذکورہ شخص کو تلاش کررہی ہے۔

پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچی کو بازیاب کروا کے اُسے بچوں کے حفاظتی مرکز میں جمع کرا دیا جبکہ پنجائیت اور دونوں خاندانوں کے سربراہان کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا۔

چتور گڑھ کے حکومتی عہدیداران کا کہنا ہے کہ گنرار پنچائیت کے فیصلے پر معصوم بچی کو شادی کی بھینٹ چڑھایا گیا، تقریب میں شریک کچھ لوگوں نے اس واقعےکی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی تو وہاں کی پولیس حرکت میں آئی۔

ضلعی عہدیدار اور ایس پی چتور گڑھ کمار خمیسرا کا کہنا تھا کہ ’شادی کی تصاویر اور ویڈیوز ہمیں موصول ہوئیں جس میں نظر آنے والے افراد کے خلاف کارروائی کر کے تحقیق کی جائے گی‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں