اے پی سی: ایوان کے اندر اور باہر احتجاج، وزارتِ عظمیٰ کے لیے مشترکہ امیدوار لانے کا فیصلہ -
The news is by your side.

Advertisement

اے پی سی: ایوان کے اندر اور باہر احتجاج، وزارتِ عظمیٰ کے لیے مشترکہ امیدوار لانے کا فیصلہ

اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں کے تیسرے بڑے اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ ایوان کے اندر اور باہر رہتے ہوئے بھرپور احتجاج اور وزارتِ عظمیٰ کے لیے مشترکہ امیدوار لایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق سابق اسپیکر ایاز صادق کی سرکاری رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی اے پی سی میں عمران خان کو ٹف ٹائم دینے کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کی غرض سے 10 رکنی ایکشن کمیٹی بھی قائم کر لی گئی۔

الیکشن 2018 سے متعلق آل پارٹیز کانفرنس میں شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، لیاقت بلوچ، شیری رحمان، خورشید شاہ، قمرزمان کائرہ، راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی، فرحت اللہ بابر، میرحاصل بزنجو، آفتاب شیر پاؤ، محمود خان اچکزئی، راجہ ظفرالحق، مشاہد حسین سید اور احسن اقبال شریک ہوئے۔

پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو اے پی سی میں شریک نہیں ہوئے، کانفرنس میں اپوزیشن جماعتوں کی قومی اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے متفقہ امیدوار لانے پر مشاورت کی گئی۔

اے پی سی اعلامیہ


دریں اثنا انتخابات 2018 میں تمام جماعتوں کو پیچھے چھوڑنے والے عمران خان کو ٹف ٹائم دینے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس میں متحدہ اپوزیشن نے ایوان میں جانے کا حتمی فیصلہ کرلیا، اپوزیشن ایوان کے اندر اور باہر رہتے ہوئے بھرپور احتجاج کرے گی، اپوزیشن جماعتوں کے آگے بڑھنے کے لیے لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا۔

کانفرنس کے اختتام پر شیری رحمان نے اے پی سی کی نمائندگی کرتے ہوئے پریس کانفرنس سے خطاب کیا، انھوں نے کہا کہ ملک کے انتخابات غیر منصفانہ اور دھاندلی زدہ ہیں، تمام اپوزیشن جماعتیں اس پر متفق ہیں اور پارلیمنٹ میں وائٹ پیپر لے کر آئیں گی، اپوزیشن کو الیکشن اور اس کے نتائج منظور نہیں ہیں۔

شیری رحمان نے مزید کہا کہ اے پی سی میں فیصلہ ہوا ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے امیدوار مسلم لیگ (ن) سے، اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے امیدوار پیپلز پارٹی سے، جب کہ ڈپٹی اسپیکر کے لیے امیدوار ایم ایم اے سے لیا جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف وفاق میں حکومت بنانے کی مضبوط پوزیشن میں

ایکشن کمیٹی


اے پی سی اعلامیے کے مطابق اپوزیشن کے آگے بڑھنے کے لیے لائحہ عمل طے کرنے والی ایکشن کمیٹی کے ارکان کے لیے احسن اقبال، سعد رفیق، شیری رحمان، قمر زمان کائرہ، غلام بلور، عثمان کاکڑ، انیسہ زیب، لیاقت بلوچ اور اویس نورانی کے نام چُنے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام جماعتیں پارلیمنٹ میں حلف لیں گی، متحدہ مجلس عمل کو بھی حلف لینے پر آمادہ کر لیا گیا، اے پی سی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تمام نمائندے پارلیمنٹ کے اندر ہوں گے تو ہی متفقہ امیدوار کو ووٹ دے سکیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں