The news is by your side.

Advertisement

سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد کو گزرے 26 سال ہوگئے

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد مییں واقعے تاریخی نوعیت کے علاقے ’’پکا قلعہ‘‘ کے باسیوں کے لیے 26-27 مئی کا دن کسی اذیت ناک داستان سے کم نہیں تھا،جس میں ہلاک ہونے والوں کی آج 26 ویں برسی منائی جارہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت کے دوران سندھ پولیس میں دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے قائم کی گئی ذیلی فورس ’’ایگل فورس‘‘ نے 26 مئی کو پکا قلعہ کا محاصرہ کیا،اس وقت کے حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ پکاقلعہ میں ہونے والی کاروائی اسلحہ اور دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی جا رہی ہے۔

pakka-post-1

علاقہ مکینوں کے مطابق دو دن سے جاری محاصرے میں پہلے ہی دن پورے علاقے کی بجلی منقطع کردی گئی بعد ازاں پانی اور گیس کی سپلائی بھی بند کر دی گئی، جس کے بعد پکا قلعہ کی رہائشی خواتین بھوک و پیاس سے بلکتے بچوں کے ساتھ سروں پر قرآن رکھے، رحم کی اپیلیں کرتیں، گھروں سے باہر نکل آئیں، جہاں اُن کا سامنا پولیس سپاہیوں سے ہوا،مظاہرین اور پولیس کے درمیان مڈبھیڑ سے تصادم کی صورت اختیار کر گئی جس کے نتیجے میں 17 خواتین سمیت 20 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

pakka-post-2

واقعہ کی اطلاع ملنے پر پاک فوج کے جوان مدد کو پہنچے اور ہلاک و زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال پہنچایا،اور علاقہ کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

pakka-post-3

اس سانحہ نے ساسی حلقوں میں ہلچل مچا دی اور اس وقت کے ڈی جی اٗی ایس آئی اسد درانی نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا،اصغر خان کیس میں اسد درانی کے دیے گئے بیان کے مطابق یہی واقعہ آگے چل کر پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنا۔

pakka-qila

جب کہ اس وقت کی حکمراں جماعت نے موقف اختیار کیا کہ دہشت گردوں کی گرفتاری اور غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی کے لیے کیے گئے آپریشن کو سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے۔

جب کہ متحدہ قومی موومنٹ جو اس وقت مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے موسوم تھی کا کہنا تھا کہ آپریشن ان کے کارکنان کی بلاجواز گرفتاریوں کے لیے گیا، ایمک کیو ایم دشمنی میں معصوم خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا،ایم کیو ایم کی پیپلز پارٹی کی کابینہ سے علیحدگی کی سزا ہمارے ووٹرز کی دی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں