The news is by your side.

Advertisement

18 جون اور دنیا کا آٹھواں عجوبہ!

شاہ راہِ ریشم زمانہ قدیم ہی سے ایک اہم گزر گاہ اور اس خطے سے دنیا کے دیگر ملکوں تک تجارت کا ذریعہ رہی ہے۔

مشہور ہے کہ اس طویل راستے سے چین کی بہت سی اجناس دنیا کے دوسرے خطوں تک پہنچتی تھیں اور دوسرے ممالک سے بھی تاجر اپنا مال خریدوفروخت کے لیے یہاں لاتے تھے۔ اسے ریشم کے تاجروں کی وجہ سے شاہ راہِ ریشم پکارا جانے لگا۔ یہ راستہ بعد میں بند ہوگیا تھا۔

قیام پاکستان کے بعد پاک چین دوستی کا آغاز ہوا تو دونوں ملکوں کے مابین اس شاہ راہ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اور دوستی کی یادگار کے طور پر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کے مخصوص راستوں کو تعمیر کے بعد آمدورفت کے لیے کھولا گیا۔ اسے شاہ راہِ قراقرم کہا جاتا ہے جو کئی میل طویل ہے اور اپنے پُرپیچ اور طویل راستوں کی وجہ سے عجائباتِ دنیا میں شمار کی جاتی ہے۔

اس کی تعمیر میں پاک فوج کے انجینئروں اور چینی ماہرین نے حصہ لیا اور دن رات کام کیا۔

یہ شاہ راہ گلگت اور ہنزہ کے علاقوں کو درہ خنجراب کے راستے میں چین کے صوبہ سنکیانگ سے ملاتی ہے۔

اس عظیم شاہ راہ کی تعمیر نو کا آغاز 1971 کو ہوا تھا اور آج 18 جون کو اس کا افتتاح کیا گیا تھا۔ یہ 1978 کی بات ہے۔ اس شاہ راہ کو آٹھواں عجوبہ مانا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں