The news is by your side.

Advertisement

عام انتخابات 2018: ووٹوں‌کی گنتی جاری

پاکستان کی انتخابی تاریخ جانیں

پاکستان کے گیارہویں عام انتخابات کے لیے ملک بھر میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے، جہاں 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق ملک کے مہنگے ترین انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز صبح 8 بجے ہوا اور یہ سلسلہ بغیروقفے کے شام 6 بجے تک جاری رہے رہا۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

عام انتخابات 2018 میں قومی اسمبلی کے272 میں سے 270 جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے577 میں سے 570 حلقوں پرالیکشن ہو رہا ہے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 8 حلقوں پرانتخابات ملتوی کیے گئے ہیں جہاں اب بعد میں الیکشن ہوں گے۔

انتخابی عمل کے دوران حفاظتی اقدامات کے پیش نظر3لاکھ 70 ہزار فوجی جوان جبکہ ساڑھے چار لاکھ پولیس اہلکار تعینات ہیں، 17 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنزکوانتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

ملک کے مہنگے ترین انتخابات

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے محتاط اندازہ ظاہرکیا ہے کہ انتخابی اخراجات 21 ارب روپے سے زائد کے ہوں گے۔

رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد


الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق الیکشن 2018ء میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 10 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔

عام انتخابات 2018ء میں 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 407 ووٹرحق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہوں گے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق ملک بھر میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 کروڑ 92 لاکھ 24 ہزار 262 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 4 کروڑ 67 لاکھ 31 ہزار 145 ہے۔

صوبہ پنجاب میں ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ 6 لاکھ 72 ہزار 868 ہے جن میں سے 3 کروڑ 36 لاکھ 79 ہزار 992 مرد جبکہ 2 کروڑ 69 لاکھ 92 ہزار 876 خواتین ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ میں ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 23 لاکھ 91 ہزار 244 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 24 لاکھ 36 ہزار 844 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 99 لاکھ 54 ہزار 400 ہے۔

صوبہ خیبرپختونخواہ میں ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 53 لاکھ 16 ہزار299 ہے جن میں سے 87 لاکھ 5 ہزار 831 مرد جبکہ 66 لاکھ 10 ہزار 468 خواتین ہیں۔

اسی طرح بلوچستان میں کل ووٹرز کی تعداد 42 لاکھ 99 ہزار 494 ہے جن میں سے مرد ووٹرز 24 لاکھ 86 ہزار 230 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 18 لاکھ 13 ہزار 264 ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں کل ووٹرز کی تعداد 7 لاکھ 65 ہزار 65 ہزار 348 ووٹرز حق رائے دئی استعمال کریں گے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 7 ہزار 463 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 57 ہزار 885 ہے۔

فاٹا میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 25 لاکھ 10 ہزار 154 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 15 لاکھ 7 ہزار 902 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 10 لاکھ 2 ہزار 252 ہے۔

پاکستان کے انتخابات کی تاریخ


پاکستان میں 1970 کو ہونے والے انتخابات کو ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ منصفانہ اور شفاف انتخابات قرار دیا جاتا ہے۔

انیس سوستر کے انتخابات میں عوامی لیگ نے 167 جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی کی 80 نشتیں ہی حاصل کر پائی تھی تاہم ملک دولخت ہونے کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو پاکستان کے چوتھے صدر بنے۔

انہوں نے ملک کے پہلے غیرفوجی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے چارج سنبھالا اور 1972ء میں مختصرمدتی قومی اسمبلی کو ایک دستور ساز اسمبلی میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کیا۔

اسی اسمبلی نے ذوالفقار علی بھٹو کو وزیراعظم منتخب کیا اور 1973ء کے آئین کا مسودہ تیار اوراس پارلیمنٹ کی مدت پانچ دسمبر1977ء تک بڑھا دی گئی۔

1977ء کے انتخابات

7 مارچ 1977 کے انتخابات میں نو سیاسی جماعتوں کا اتحاد پاکستان نیشنل الائنس پی این اے ذوالفقار علی بھٹو کے مدمقابل تھا۔ پیپلزپارٹی نے اس الیکشن میں ایک سو پچپن نشتیں جیتیں جن میں بلوچستان کی ساتوں نشتیں بھی شامل تھیں جبکہ پی این اے کو 36 نشتیں ملیں۔

پاکستان نیشنل الائنس نے دس مارچ کے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور شہروں میں حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے۔

جولائی 1977 کے پہلے ہفتے میں پی این اے اور بھٹو حکومت میں کے درمیان معاملات طے پائے کہ اکتوبر میں عبوری حکومت کے تحت دوبارہ انتخابات کرائے جائیں گے لیک 5 جولائی کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کردیا۔

1985ء کے غیرجماعتی انتخابات

فروری 1985 میں فوج کی نگرانی میں ملک میں پہلی بار غیرجماعتی پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے

فروری انیس سو پچاسی میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے سائے میں ملک میں پہلی بار غیر جماعتی پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے۔

انتخابات میں قومی اسمبلی کے لیے پڑنے والے ووٹوں کی شرح تقریبا 54 فیصد اور صوبائی پولنگ کی شرح 57 فیصد سے زائد رہی۔

1985ء کے غیرجماعتی انتخابات میں کئی نئے چہرے سامنے آئے۔ محمد خان جونیجو پاکستان کے دسویں وزیراعظم پاکستان بنے۔

1988ء کے انتخابات

انیس سواٹھاسی کے انتخابات میں پیپلزپارٹی نے نوازشریف کی قیادت میں بننے والے ایک نوجماعتی اسلامی جمہوریہ اتحاد کو شکست دے کر 93 نشتیں حاصل کیں۔ 4 دسمبر1988ء کوبینظیر نے ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔

1990ء کے انتخابات

انیس سو نوے کے انتخابات میں نوازشریف کے اسلامی جمہوری اتحاد کوقمی اسمبلی کی 106 اور پیپلزپارٹی کو 44 نشتیں ملیں۔ انتخابات میں اڑتالیس جماعتوں نے حصہ لیا جبکہ ووٹنگ کی شرح تقریباََ 46 فیصد بتائی گئی۔

1993ء کے انتخابات

1993 کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی نے 89 جبکہ نوازشریف کی جماعت نے 73 نشتیں حاصل کیں۔ پیپلزپارٹی نے دوسری چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنا کراپنی حکومت قائم کی اور بینظیربھٹو دوسری بار ملک کی وزیراعظم بنیں۔

1997ء کے انتخابات

انیس ستانوے کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 135 نشتیں حاصلی کیں جبکہ پیپلزپارٹی بمشکل 18 نشتیں ہی حاصل کر پائی۔ نوازشریف دوسری مرتبہ ملک کے وزیراعظم بنے۔

2002ء کے انتخابات

2002ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ق نے 118 نشتیں اور پیپلزپارٹی نے 81 نشتیں حاصل کیں۔ مسلم لیگ ن صرف 19 نشتیں حاصل کرپائی۔

2008ء کے انتخابات

بینظیر بھٹو کی شہادت کے ایک ماہ بعد ہونے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی نے 122 نشتیں حاصل کیں جبکہ مسلم لیگ ن 92 نشتوں کے  ساتھ دوسرے نمبر پررہی، یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے ، نا اہلی کے بعد ان کی جگہ راجہ پرویز اشرف نے وزارتِ عظمیٰ سنبھالی۔

2013ء کے انتخابات

دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن نے 166 جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی 42 نشتیں حاصل کیں۔ ن لیگ کی کامیابی کے بعد نوازشریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے، تاہم گزشتہ سال جولائی میں انہیں کرپشن کے الزامات میں برطرف کردیا گیا جس کے بعد شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بنے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں