site
stats
ضرور پڑھیں

پاکستان میں سالانہ 25 ارب روپے کا پانی ضائع

اسلام آباد: واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال 25 ارب روپے کی مالیت کا پانی ضائع کردیا جاتا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے دوران واپڈا کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دریاؤں میں ہر سال 14.5 کروڑ ایکڑ فٹ ( پانی کو ناپنے کا پیمانہ) پانی آتا ہے تاہم اس میں سے صرف 1.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ہی مناسب طریقے سے محفوظ کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں چھٹے نمبر پر موجود ہے جہاں آبادی کے لحاظ سے آبی ذخائر پر شدید دباؤ ہے تتیجتاً پاکستان میں تیزی سے آبی قلت واقع ہورہی ہے اور بہت جلد پاکستان خشک سالی کا شکار ملک بن سکتا ہے۔

بریفنگ میں واپڈا چیئرمین نے بتایا کہ تربیلا ڈیم کی بنیاد میں ریت جمع ہو رہی ہے جس کے باعث اس کے پانی اسٹور کرنے کی صلاحیت میں 36 فیصد کمی آگئی ہے۔

ان کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی جمع کرنے کی صلاحیت 96 لاکھ ملین ایکڑ فٹ سے گھٹ کر 66 لاکھ ملین ایکر فٹ ہوگئی ہے۔

انہوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ 70 سالوں میں پاکستان میں صرف 2 ڈیم تعمیر کیے جاسکے ہیں۔

پانی کی قلت ہماری اپنی پیدا کردہ

ماہرین ماحولیات و آب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قلت آب کی صورتحال قدرتی نہیں بلکہ ہماری اپنی پیدا کردہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم فوری طور پر نئے آبی ذخائر بنانے پر توجہ دیں تو ہم ممکنہ خشک سالی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق بد انتظامی اور نئے ذخائر تعمیر نہ کرنے کے باعث سنہ 1990 میں پاکستان ان ممالک کی صف میں آگیا تھا جہاں آبادی زیادہ اور آبی ذخائر کم تھے جس کے باعث ملک کے دستیاب آبی ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔

سنہ 2005 میں پاکستان پانی کی کمی والے ممالک کی صف میں آکھڑا ہوا۔

اب ماہرین کے مطابق یہ صورتحال مزید جاری رہی تو بہت جلد پاکستان میں شدید قلت آب پیدا ہوجائے گی جس سے خشک سالی کا بھی خدشہ ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top