The news is by your side.

Advertisement

روٹی، توے سے تنّور تک ذائقہ ہی نہیں صورت بھی بدلتی ہے

دنیا کے مختلف ممالک میں ضیافت اور مہمان داری کا انداز اور طریقے بھی مختلف ہیں۔ تہواروں اور تقاریب میں مہمانوں کے لیے قسم قسم کا پکوان اور لذیذ کھانے تیّار کیے جاتے ہیں، لیکن گھروں میں ہمیں غذائی اشیا کی کچھ مخصوص شکلیں ضرور دیکھنے کو ملتی ہیں، جو طعام کے لوازم میں شامل ہوتی ہیں۔

اس کی ایک مثال روٹی ہے جو برصغیر پاک و ہند میں ہر قسم کے سالن، سبزی ترکاری، دال دلیے کا لازمہ مانی جاتی ہے۔ کیا امیر، کیا غریب سبھی روٹی سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔

عام روٹی کے علاوہ تہواروں اور تقاریب کے لیے پکوانوں کی مناسبت سے مختلف اقسام کی روٹیاں تیّار کی جاتی ہیں۔ ان کے بنانے کا طریقہ بھی مختلف ہوتا ہے اور ان کے نام بھی۔ اس کے لیے تجربہ کار اور ماہر کاری گروں کی ضرورت پڑتی ہے۔

گندم کے آٹے کی روٹی ہمارے یہاں عام استعمال کی جاتی ہے اور اسے ہم چپاتی، پھلکا اور پراٹھا کے نام سے جانتے ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں لوگ ناشتے میں مکھن، دہی، دودھ یا لسّی کے ساتھ بھی سادہ روٹی اور پراٹھے کھاتے ہیں۔

پاکستان میں گھروں میں‌ جو روٹیاں پکائی جاتی ہیں، وہ بھی اپنی شکل و صورت اور اجزائے ترکیبی میں مختلف ہوتی ہیں۔ اس کی سادہ مثال تو روٹی کا گول یا چوکور ہونا ہے جب کہ الٹے توے کی روٹی بھی مشہور ہے اور اکثر علاقوں میں‌ یہی روٹی کھائی جاتی ہے، اسی طرح غذائی اجزا کی بات کی جائے تو بعض لوگ‌ گندم کے علاوہ جَو کی روٹی بھی کھاتے ہیں۔ باجرہ ایک اہم غذائی جنس ہے اور اس کے آٹے کی بھی روٹی پکائی جاتی ہے۔

چپاتی، پراٹھے، پھلکا اور پوری وغیرہ بنانے میں خمیر کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن روٹیوں کی بعض اقسام ایسی ہیں جن میں خمیر کی آمیزش ضروری ہوتی ہے۔ انھیں نان بائی اور ماہر باورچی پُھلانا اور خستہ و خوش ذائقہ بنانا جانتا ہے۔ عام طور پر ایسی روٹیاں گھروں میں‌ تیّار نہیں کی جاتیں، کیوں کہ اس میں‌ خاصی محنت لگتی ہے اور اکثر ایسی روٹیاں پکانے کے لیے خاص طریقہ اور مہارت درکار ہوتی ہے۔

آلو کے پراٹھے، میٹھی روٹی، بیسن کی روٹی، مولی، گوبھی اور دال بھرے پراٹھوں کا ذائقہ آپ کی زبان نے بھی چکھا ہو گا۔ ایسی روٹیوں کا لطف بدلتے ہوئے موسم کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے۔

مختلف شکلوں‌ میں نمکین، میٹھی اور مزے دار روٹیاں نان، کلچہ، پوری، شیر مال، روغنی پراٹھا جیسے ناموں سے پہچانی جاتی ہیں اور یہ انواع و اقسام کے سالن، ساگ اور چٹنی کے ساتھ کھائی جاتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں