The news is by your side.

Advertisement

’’رہبر اول‘‘ کے بارے میں‌ جانیے

قیامِ پاکستان کے بعد جہاں ملک میں اس وقت کے قابل اور باصلاحیت لوگوں نے مختلف شعبوں کا نظام سنبھالا اور وطنِ عزیز کو ہر لحاظ سے مضبوط اور مستحکم کرنے، ہر شعبے میں خود کفیل اور توانا ہونے کے لیے دن رات کام کیا وہیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے پر بھی توجہ دی گئی اور ماہرین نے اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ اس حوالے سے فضا میں راکٹ بھیجنے کا تجربہ بھی کیا گیا جو 1962 کی بات ہے۔

سون میانی وہ مقام ہے جہاں سے جون کی سات تاریخ کو شام 7 بج کر 53 منٹ پر پاکستان نے اپنا پہلا راکٹ فضا میں‌ بلند ہوا۔

یہ راکٹ 80 میل کی بلندی تک پہنچا جسے ’’رہبر اول‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ پاکستانی سائنس دانوں اور انجینئروں نے اسے موسم کی صورتِ حال جاننے کے لیے تیار کیا تھا۔

اس راکٹ کے پہلے تجربے کے ساتھ ساتھ اس کی مدد سے ماہرین یہ جاننا چاہتے تھے کہ بحیرہ عرب کے ساحلی علاقے میں ہوائوں کا رخ اور فضا کی کیفیت کیا ہے۔

پاکستان اس وقت اسلامی ممالک میں وہ پہلا ملک تھا جس نے راکٹ کا یہ تجربہ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں