The news is by your side.

Advertisement

ملکی تاریخ میں پہلی بار خواتین کے کبڈی مقابلوں کا انعقاد

الیمنیشن راؤنڈ میں اسٹرابیری ایمبیشنز نے اسٹرابیری ڈریمز کو 31 کے مقابلے میں 33 پوائنٹس سے شکست دے دی

لاہور: ملکی تاریخ میں پہلی بار سپر کبڈی لیگ کے تحت خواتین کے درمیان کبڈی کے شان دار مقابلے منعقد ہوئے، خواتین کھلاڑی بھرپور جذبے کے ساتھ ایکشن میں نظر آئیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور سے اے آر وائی نیوز کے نمائندے شہزاد ملک نے رپورٹ دی کہ خواتین کا سرکل اسٹرائک کبڈی میچ ہوا، اس نمائشی میچ میں خواتین پہلوانوں نے ایک دوسرے کو خوب پٹخے دیے اور کبڈی کے ایونٹ کو دل چسپ اور کام یاب بنایا۔

سرکل اسٹرائک میچ میں اسٹرابیری ایمبیشنز اور اسٹرابیری ڈریمز کی ٹیمیں آمنے سامنے آئیں، گلابی کٹ میں ملبوس ایمبیشنز نے نیلی کٹ کی ڈریمز کو ایک دل چسپ مقابلے کے بعد 31 کے مقابلے میں 33 پوائنٹس سے شکست دی۔

کبڈی میچ میں حصہ لینے والی کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ اگر سرکل اسٹرائیک کی کبڈی کے خواتین کے زیادہ سے زیادہ میچز اور لیگز کروائی جائیں تو خواتین بھی ایشیائی سطح پر پاکستان کے لیے میڈلز لاسکتی ہیں۔

ایک کھلاڑی نے کہا کہ پاکستان میں ہم جتنا زیادہ کھیلیں گے اور ہمارے لوگ ہمیں سپورٹ کریں گے اتنا ہی ہم آگے جاسکتے ہیں، بین الاقوامی سطح پر اتنا ہی ہمارے اعتماد، تجربے اور مہارت میں اضافہ ہوگا۔

ایک اور کھلاڑی نے کہا کہ صرف کرکٹ نہیں ہونی چاہیے، کبڈی بھی ہونی چاہیے۔ کبڈی بہت ہی ہمت والا کھیل ہے، میچ میں سب نے دیکھا کہ ہماری لڑکیوں نے کتنا اچھا کھیل پیش کیا ہے۔

پاکستان کا سر فخر سے بلند کرنے والی خواتین کرکٹرز

واضح رہے کہ سپر کبڈی لیگ میں الیمنیشن راؤنڈ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے، ایونٹ کے چاروں کوارٹر فائنلز منگل کے روز کھیلے جائیں گے۔ پاکستان کے اس پہلے سپر کبڈی لیگ میں دس ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں دو ٹیمیں خواتین کی ہیں۔ ٹیموں کا تعلق لاہور، ملتان، گجرات، کراچی، اسلام آباد، گوادر، فیصل آباد، پشاور، کشمیر اور ساہیوال سے ہے۔

خیال رہے کہ ان میچز کا انعقاد پنجاب کے اس روایتی کھیل کے احیا کے لیے اہم قدم ہے، ایک وقت تھا جب کبڈی یہاں کے گاؤں اور ضلعی سطح پر مقبول کھیل تھا تاہم دیگر کھیلوں کی مقبولیت کے باعث رفتہ رفتہ کبڈی کی اہمیت ختم ہوگئی۔ آج بھی پاکستان کے کھلاڑی برصغیر میں بہترین کھلاڑی ثابت ہوسکتے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں