site
stats
اہم ترین

ٔسپریم کورٹ میں پاناماکیس کی سماعت منگل تک ملتوی

اسلام آباد: سپریم کور ٹ آف پاکستان میں پاناماکیس کی سماعت منگل تک ملتوی ہوگئی،سلمان اکرم راجہ اگلی سماعت پر اپنے دلائل کاسلسلہ جاری رکھیں گے۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نےپاناماکیس کی سماعت کی۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان،عوامی مسلم لیگ کےسربراہ شیخ رشید،جہانگیر ترین،سراج الحق اور دیگر عدالت میں موجود تھے۔

پاناماکیس کی سماعت کے آغاز پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سلمان اکرم راجہ سے کہاکہ کب اور کتنے جوابات جمع کرائے،جس پرحسین نواز کے وکیل نےکہاکہ تاریخوں کے حساب سے عدالت کو کچھ دیر میں آگاہ کروں گا۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ زیادہ ترجوابات مشترکہ طور پرجمع کرائے گئے ہیں،انہوں نےکہاکہ منروا کےساتھ سروسزکا ریکارڈ عدالت میں جمع کرادیا۔

حسین نواز کےوکیل نےکہاکہ میرے موکل نےایرینا کمپنی کی جانب سے معاہدہ کیا۔انہوں نےکہاکہ حسین نواز نےفیصل ٹوانہ کو بطور نمائندہ مقرر کیا تھا۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ تمام دستاویزات گزشتہ رات لندن سے منگوائی ہیں،جبکہ منروا کمپنی کو ادائیگیوں کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کر دی ہیں۔

حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ فیصل ٹوانہ حسین نواز کی جانب سے منروا کمپنی سےڈیل کرتے تھے،ہدایات حسین نواز دیتے تھے۔

جسٹس عظمت نےکہاکہ جودستاویزات آپ دکھا رہے ہیں وہ آف شور کمپنیوں کےڈائریکٹرز کے نام ہیں؟سوال یہ ہےنیلسن اور نیسکول کا ڈائریکٹر کون تھا؟انہوں نےکہا کہ دستاویزات سےثابت کریں حسین نواز کمپنیاں چلا رہے تھے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ فروری 2006 سےجولائی 2006 تک مریم نواز بطور ٹرسٹی شیئر ہولڈر رہیں،جبکہ جولائی 2006 میں منرواکمپنی کے نام رجسٹرڈ شیئرز جاری ہوئے۔

حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ منروا کمپنی نے نیلسن اور نیسکول کے اپنے ڈائریکٹرز دیے،2014میں شیئرزمنروا سےٹرسٹی سروسز کو منتقل ہو گئے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہا کہ فروری سے جولائی تک شیئرز سرٹیفکیٹ مریم نواز کے پاس رہے،بیئریرسرٹیفکیٹ کی منسوخی سےمریم کی بطور شیئرز ہولڈرز حیثیت ختم ہو گئی۔

انہوں نےکہاکہ مریم نےبیئریر سرٹیفکیٹ بطور ٹرسٹی اپنے پاس رکھے،جس پرجسٹس اعجاز افضل نےاستفسارکیاکہ شیئرز ٹرانسفر ہونے سے ٹرسٹ ڈیڈ ختم ہو گئی؟۔

سلمان اکرم راجہ نےدلائل دیتےہوئے کہاکہ مریم زیرکفالت ثابت بھی ہو تب بھی فلیٹس کی مالک ثابت نہیں ہوتیں۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ حسین نواز کے پاس لندن میں مہنگی جائیدادوں کےلیےسرمایہ کاری کو بھی دیکھنا ہے،انہوں نےکہاکہ مریم اگر حسین نوازکےبطورنمائندہ کام کرتی تھی تواس دستاویز کو بھی دیکھنا ہے۔

حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ وہ دستاویز ٹرسٹ ڈیڈ ہےجو حسین نواز اور مریم نواز کے درمیان 2006 میں ہوئی،جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ جولائی 2006 بیریئرسرٹیفکیٹ کی منسوخی کےلیےحسین نواز گئے یا مریم نواز؟۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہا کہ حسین نواز نےسرٹیفکیٹ منسوخ کرائے یا مریم نے اس سے فرق نہیں پڑتا۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ اصغر خان کیس میں اسد درانی اور اسلم بیگ نے الزامات کو تسلیم کیا،جس پر جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ کیا اصغر خان کیس میں شواہد ریکارڈ ہوئے؟حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ الزام تسلیم کر لینے پر شواہد ریکارڈ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

حسین نواز کےوکیل نےکہاکہ سرٹیفکیٹ منسوخی سے ٹرسٹ ڈیڈ ختم نہیں ہوئی،جبکہ موزیک نے اپنی دستاویز سے لاتعلقی ظاہر کی تھی۔انہوں نےکہاکہ مریم نواز نے بھی کہہ چکی ہیں دستاویز پر دستخط ان کے نہیں ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نےسوال کیاکہ یہ دستاویز آخر آئی کہاں سے؟جس کےجواب میں سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ لگتا ہے موزیک والی دستاویزات فراڈ کر کے تیار کی گئیں۔دستاویز کون کہاں سے لایا،کچھ علم نہیں ہے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ مریم کے بینفشیل مالک ہونے کی جعلی دستاویز عدالت میں جمع کرائی گئی،جسٹس کھوسہ نے کہاکہ آپ کہنا چاہتے ہیں فلیٹس سے متعلق چین مکمل ہو چکی۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ حسین نواز کے پاس اتنی مہنگی جائیداد لینے کے لیے سرمایہ نہیں تھا،سلمان اکرم راجہ نے جواب میں کہاکہ جائیداد قطری سرمایہ کاری کے بدلے حسین نواز کو ملی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ کیا سپریم کورٹ خود سے کمیشن تشکیل دے کر انکوائری نہیں کر سکتی،جس کے جواب میں سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ آرٹیکل 10 اے میں شفاف ٹرائل کا کہا گیا ہے۔

حسین نوازکے وکیل نےکہاکہ کمیشن کسی شخص کو سزا یا جزا نہیں دے سکتا،کمیشن انکوائری کےنتیجےمیں صرف اپنی رائے دے سکتا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ کمیشن کا کام شواہد اکٹھے کرنا ہے،جس پرسلمان اکرم راجہ نےکہاکہ فوجداری معاملے کا ٹرائل کمیشن نہیں کر سکتا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ ہم یہاں شواہد ریکارڈ نہیں کر رہے،انہوں نےکہاکہ مقدمے کی نوعیت کیا ہے اس کا فیصلہ آخر میں کریں گے۔

جسٹس کھوسہ نےکہاکہ آپ کہتے ہیں ہمیں سارا سرمایہ قطری نے دیا،جبکہ اتنے بڑے کاروبار اور لین دین کا آپ نے کوئی حساب نہیں رکھا۔سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ عدالت کو دیکھنا ہےکیا یہ جرم ہے یا ریکارڈ نہ رکھنے میں کوئی لاقانونیت ہے۔

حسین نواز کےوکیل نےکہا کہ عدالت کو دیکھنا ہےاس حوالےسے قانون کیا کہتا ہے،جسٹس کھوسہ نے کہاکہ آپ کےکیس میں 2 باتیں ہو سکتی ہیں،یا ہم قطری والا موقف تسلیم کریں یا نہ کریں۔

انہوں نےکہاکہ آپ کے پاس ایک یہ ہی موقف ہےاور دستاویزات نہیں ہیں،سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ آپ قطری والا موقف تسلیم نہیں کرتے تو پھردرخواست ثابت کرے ہم نےجرم کیا۔

جسٹس کھوسہ نےکہاکہ اسی لیےتو کہہ رہا ہوں آپ جوا کھیل رہے ہیں اور جوا کسی کے حق میں بھی جا سکتا ہے،جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ مقدمہ صرف یہ ہے کہ مریم جائیداد کی بینیفیشل ٹرسٹی ہیں یا نہیں ہیں۔

جسٹس عظمت نےکہاکہ سراج الحق کہتے ہیں کرپشن نظر انداز نہ کی جائے،ملوث افراد کونا اہل قرار دیا جائے،انہوں نےکہاکہ اگر وہ ثابت کرتے ہیں تو ٹھیک،ورنہ سراج الحق کی درخواست سیاسی رقابت ہی سمجھی جائےگی۔

جسٹس آصف کھوسہ نےکہاکہ استغاثہ کی ذمہ داری ہے شک و شبہ سے بالا اپنا کیس ثابت کرے،جس کےجواب میں حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ جب کوئی جرم نہیں ہوا تو کمیشن بنانے کا بھی جواز نہیں۔

انہوں نےکہاکہ اصغر خان کیس میں بھی عدالت نے متعلقہ اداروں کو تحقیقات کا حکم دیا تھا،جسٹس کھوسہ نےکہاکہ اصغر خان کیس میں عدالت نے پہلے ڈیکلیریشن دیا تھا،جبکہ اصغر خان کیس کا کرمینل حصہ تحقیقات کے لیے بھجوایا گیا تھا۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ عدالت نے ڈیکلیریشن اعترافی بیانات پر دیا تھا، جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ آرٹیکل 184/3 کے تحت عدالت ڈکلیریشن دے سکتی ہے۔

جسٹس کھوسہ نےکہاکہ عدالت 184/3 میں کسی کو مجرم قرار نہیں دے سکتی،جرم کی تحقیقات متعلقہ اد ارے ہی کرتے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ آپ کے موکل نے بھی تو جائیداد یں ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ جائیداد کا اعتراف حسین نوا ز نے کیا،نواز شریف کا جائیداد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔جسٹس کھوسہ نےکہاکہ میاں شریف کا انتقال ہو چکا تھا،بچوں کی اس وقت آمدن نہیں تھی۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ عدالت اس بنیاد پر کچھ بھی فرض نہیں کر سکتی،جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ جائیداد سے متعلق فنڈز کی تفصیلات بھی دستاویزنہیں ہے۔

حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ عدالت وضاحت مسترد کر دے تو بھی درخواست گزار کا موقف تسلیم نہیں کیا جا سکتا،جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ فلیٹس کے حوالے سے خاندان کے بیانات میں تضاد ہے۔

انہوں نےکہاکہ امریکہ میں سربراہ مملکت کے خلاف تحقیقات ہوں تو اس کے لیے الگ ادارہ ہے،جس کے جواب میں سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ امریکہ میں اس کام کے لیے الگ ادارہ قانون کے مطابق بنایاگیا۔

حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ امریکہ میں یہ کام عدالتوں کے ذریعے نہیں ہوا،جسٹس کھوسہ نےکہاکہ جب تحقیقاتی ادارے آزاد تھے،تب عدالتیں مداخلت نہیں کرتی تھیں۔

جسٹس آصف کھوسہ نےکہاکہ وقت اور حالات کے مطابق عدالتوں کو مداخلت کرنا پڑی،انہوں نےکہاکہ ادارے لکھ دیں کچھ نہیں کر سکتے تو عدالت کیا کرے۔

جسٹس اعجا ز افضل نےکہاکہ حدیبیہ مل کیس میں اپیل نہ کرنے کی نیب کی وجوہات ٹھوس نہیں،انہوں نےکہا طیارہ سازش کیس میں نواز شریف نے بھی مقررہ مدت کے بعد اپیل کی۔سپریم کورٹ نے تاخیر سے آنے والی اپیل بھی منظور کی۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ عدالتی کاروای پبلک ٹرائل بنتی جا رہی ہے،انہوں نےکہاکہ میڈیا اورہمارے ساتھی روزانہ شام کو فیصلہ سنا رہے ہیں۔

حسین نواز کے وکیل نے کہاکہ ون ایٹی فور تھری کے تحت عدالت کوئی فیصلہ دے تو اپیل کا حق نہیں ہو سکتا،انہوں نےکہاکہ اپیل کے حق کا تصور اسلامی قوانین میں بھی موجود ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ عدالت کسی بھی شخص کو فیصلے کے خلاف اپیل کے حق سے محروم نہیں کر سکتی،سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ 184/3کے تحت مقدمے میں عدالت متنازع حقائق میں نہیں جا سکتی۔

جسٹس کھوسہ نےکہاکہ اسی لیے ہم اس مقدمے میں غیر معمولی احتیاط سے کام لے رہے ہیں،جس پر حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ شیطان کو بھی وضاحت کا موقع دیا گیا، مچھلیاں پکڑنے والی انکوائری نہیں کی جا سکتی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ شیطان کو صفائی موقع شریعیت کے قانون کے مطابق دیا گیا،سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ آج بھی پی ٹی آئی نے 800 صفحات جمع کرائے ہیں۔

جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ آپ بھی اس کے جواب میں 80صفحات جمع کرا دیں،انہوں نےکہاکہ اتنی دستاویز آئیں گی تو کیس کیسے ختم ہوگا۔

واضح رہےکہ پاناماکیس میں تحریک انصاف،عوامی مسلم لیگ،جماعت اسلامی کے وکلا دلائل مکمل کرچکے ہیں،وزیراعظم کے بیٹوں کے وکیل کے دلائل کے بعداٹارنی جنرل اپنے دلائل دیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top