The news is by your side.

Advertisement

میک اَپ آرٹسٹ اکمل جنھوں‌ نے بطور اداکار 8 سال ناکامیاں سمیٹیں

قد آور اور خوب رُو اکمل فلم نگری کے میک اَپ آرٹسٹ تھے اور ان کے بھائی اداکار۔ اکمل کے لیے کسی فلم کا کوئی معمولی اور چھوٹا سا کردار حاصل کرنا کیا مشکل تھا۔ ایک دن اکمل نے خود کو اس میدان میں آزمانے کا فیصلہ کیا اور ‘ایکسٹرا’ کے طور پر نظر آنے لگے۔

ایک وقت آیا کہ اکمل پنجابی فلموں کے انتہائی مقبول اور مصروف اداکار بن گئے، لیکن کام یابی کا یہ سفر طویل اور مراحل صبر آزما ثابت ہوئے۔

اکمل نے 1956ء میں فلم جبرو میں ہیرو کا رول نبھایا اور بڑے پردے کے شائقین اور فلم سازوں سے قبولیت اور پسندیدگی کی توقع کرنے لگے، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اگلے 8 برس تک اکمل کو درجن سے زائد فلموں میں ہیرو یا مرکزی رول نبھانے کے باوجود خاص پذیرائی نہیں‌ مل سکی۔

اکمل کی مایوسی کا یہ عالم تھا کہ 1963ء میں فلم بغاوت میں ولن اور فلم چاچا خوامخواہ میں ایک ثانوی کردار بھی قبول کرلیا، لیکن پھر ہدایت کار امین ملک کی فلم چوڑیاں نے انھیں ہمّت اور توانائی دی۔ انھوں نے اپنی اداکاری سے شائقین اور فلم سازوں کو بھی متاثر کیا۔ 1964ء میں ہدایت کار اسلم ایرانی کی فلم ہتھ جوڑی میں اکمل کو ایک دیہاتی کا کردار ملا جس نے انھیں‌ شہرت اور مقبولیت کی انتہاؤں پر پہنچا دیا۔ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی جس کے بعد ہر طرف ان کا شہرہ ہونے لگا۔

اپنے اسی دورِ عروج میں‌ جب ان کی عمر محض 38 سال تھی، اکمل کا انتقال ہو گیا۔

اکمل پنجابی فلموں کے پہلے ہیرو تھے کہ جنھوں نے ایک کیلنڈر ائیر میں 10 سے زائد فلموں میں اداکاری کی اور یہی سلسلہ مزید دو سال جاری رہا جس سے اکمل کی مقبولیت اور مصروفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اداکارہ فردوس کے ساتھ ان کی جوڑی سب سے زیادہ پسند کی گئی تھی۔

اکمل کی یہ مقبولیت اور ان کی کام یابی پنجابی فلموں تک محدود تھی اور متعدد اردو فلموں میں کام کرنے کے باوجود ناکامی کا سامنا کیا۔ بعض فلمی ناقدین کہتے ہیں کہ پنجابی فلموں میں بھی اکمل کی مقبولیت کا راز فلم کی کہانی اور کردار رہے، اور شہرت کی ایک وجہ جوانی میں ان کی موت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں