The news is by your side.

Advertisement

کیا آنکھوں کے مسائل سے پارکنسن بیماری کی نشان دہی ہوتی ہے؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارکنسن کی بیماری میں آنکھوں کے مسائل بھی لاحق ہوتے ہیں، آنکھوں میں خشکی اور دھندلا پن آجاتا ہے، یہاں تک کہ آنکھوں کی حرکت متاثر ہونے لگتی ہے۔

پارکنسن کی بیماری دراصل دماغی مرض ہے، جو جسم کی حرکت کے نظام کو متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے چلنے پھرنے، توازن اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں دشواری اور سختی پیدا ہوتی ہے۔ اس کی علامات عام طور سے بتدریج شروع ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتی ہیں۔ مرض بہت زیادہ بڑھنے سے مریض کو چلنے اور باتیں کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

ایک میڈیکل ویب سائٹ پارکنسنز نیٹ پر شایع شدہ ایک آرٹیکل کے مطابق پارکسن کی وجہ سے دماغ اور پٹھوں کے درمیان اشاروں کا عمل متاثر ہو جاتا ہے، اور متعدد معذوریاں سامنے آتی ہیں جو اکثر نقل و حرکت سے متعلق ہوتی ہیں۔

طبی ماہرین نے کہا ہے کہ اس کی علامات میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جاتا ہے اور یہ آنکھوں کو بھی متعدد طریقوں سے متاثر کرتی ہے، پارکنسن کی بیماری میں آنکھوں میں خشکی اور دھندلا پن آ جاتا ہے، یہاں تک کہ آنکھوں کی حرکت متاثر ہونے لگتی ہے۔

اس بیماری کا اثر آنکھوں کی پلکوں پر بھی ہوتا ہے جس کے بعد پلکوں کے ہلنے میں دشواری ہوتی ہے، طبی ماہرین نے کہا کہ پارکنسنز کی بیماری آنکھوں یا پلکوں کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے، اسی طرح اس کا علاج کرنے کے لیے استعمال ہونے والی دواؤں کے مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا ہے کہ آنکھوں میں اچانک تبدیلی آنے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اس لیے کہ پارکنسنز کی بیماری کی کئی علامات ایسی ہیں جن کی مکمل نشوونما میں وقت لگتا ہے، اور آنکھوں میں خشکی کے اسباب بھی مختلف ہوتے ہیں۔

برطانوی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس بیماری میں کچھ لوگوں کو کچھ رنگوں جیسا نیلے اور سبز رنگ میں فرق کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے، تاہم یہ مسئلہ ادویات کے استعمال سے ختم ہو سکتا ہے۔

یہ سوال کہ پارکنسنز ڈیزیز کیوں لاحق ہوتی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جینیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی عوامل کا امتزاج اس بیماری کی وجہ بن سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں