The news is by your side.

Advertisement

’’چل چل رے نوجوان…‘‘

’’چل چل رے نوجوان‘‘ کی ناکامی کا صدمہ ہمارے دل و دماغ سے قریب قریب مندمل ہو چکا تھا۔

گیان مکرجی، فلمستان کے لیے ایک پروپیگنڈہ کہانی لکھنے میں ایک عرصے سے مصروف تھے۔ کہانی لکھنے لکھانے اور اسے پاس کرانے سے پیشتر نلنی جیونت اور اس کے شوہر وریندر ڈیسائی سے کنٹریکٹ ہو چکا تھا۔ غالباً پچیس ہزار روپے، ایک سال اس کی میعاد تھی۔

مسٹر ششودھر مکرجی حسبِ عادت سوچ بچار میں دس مہینے گزار چکے تھے۔ کہانی کا ڈھانچہ تھا کہ تیار ہونے ہی میں نہیں آتا تھا۔ بصد مشکل جوں توں کرکے ایک خاکہ معرض وجود میں آیا جسے گیان مکرجی اپنی جیب میں ڈال کر روانہ ہوگئے تاکہ زبانی طور پر اس میں اور کچھ چیزیں ڈال کرحکومت سے پاس کرا لیں۔ خاکہ پاس ہوگیا۔

جب شوٹنگ کا مرحلہ آیا تو وریندر ڈیسائی نے یہ مطالبہ کیا کہ اس کے ساتھ ایک برس کا کنٹریکٹ کیا جائے اس لیے کہ پہلے معاہدے کی میعاد ختم ہونے والی ہے۔ رائے بہادر چونی لال منیجنگ ڈائریکٹر بڑے اکھڑ قسم کے آدمی تھے۔ چنانچہ نتیجہ یہ ہوا کہ مقدمہ بازی ہوئی۔ فیصلہ وریندر ڈیسائی اور ان کی خوبرو بیوی نلنی کے حق میں ہوا۔ اس طرح پروپیگنڈہ فلم جس کی کہانی کا ابھی صرف غیر مکمل خاکہ ہی تیار ہوا تھا، پچیس ہزارروپوں کے بوجھ تلے آگئی۔

رائے بہادر کو بہت عجلت تھی کہ فلم جلد تیار ہو کیونکہ بہت وقت ضائع ہو چکا تھا ،چنانچہ جلدی جلدی میں ولی صاحب کو بلا کر ان کی بیوی ممتاز شانتی سے کنٹریکٹ کرلیا گیا اور اس کو چودہ ہزار روپے بطور پیشگی ادا کردیے گئے۔ (بلیک میں یعنی بغیر رسید)

دو دن شوٹنگ ہوئی۔ ممتاز شانتی اور اشوک کمار کے درمیان مختصر سا مکالمہ تھا جو بڑی مین میخ کے بعد فلمایا گیا مگر جب اسے پردے پر دیکھا گیا تو سب نے ممتاز شانتی کو ناپسند کیا۔ اس ناپسندیدگی میں اس بات کا بھی بڑا دخل تھا کہ ممتاز برقع پہن کر آتی تھی اور ولی صاحب نے صاف طور پر مکرجی سے کہہ دیا تھا کہ اس کے جسم کو کوئی ہاتھ واتھ نہیں لگائے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ممتاز شانتی کو فلم سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس بہانے سے کہ جو کردار اسے اس کہانی میں ادا کرنا ہے، اس کے لیے مناسب و موزوں نہیں۔کیونکہ اس میں ایسے کئی مقام آئیں گے جہاں ہیروئن کو اپنے جسم کے بعض حصوں کی عریاں نمائش کرنا پڑے گی۔ قصہ مختصر کہ یہ چودہ ہزار بھی گئے۔

اب کہانی کا نامکمل ڈھانچہ انتالیس ہزار روپے کے نیچے دبا پڑا تھا۔ رائے بہادر چونی لال، لال پیلے ہورہے تھے، ’’ چل چل رے نوجوان‘‘ کی ناکامی نے کمپنی کی حالت بہت پتلی کر دی تھی۔ مارواڑیوں سے قرض لے لے گزارہ بصد مشکل ہو رہا تھا۔ رائے بہادر کی خفگی اور پریشانی بجا تھی۔

ہم لوگوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا لیکن ایس مکرجی نے اس عورت کو جس کا نام پارو تھا، پروپیگنڈہ فلم کے ایک رول کے لیے منتخب کر لیا۔ چنانچہ رائے بہادر چونی لال نے فوراً اس سے ایک فلم کا کنٹریکٹ معمولی سی ماہانہ تنخواہ پر کر لیا۔

اب پارو ہر روز اسٹوڈیو آنے لگی۔ بہت ہنس مکھ اور گُھلو مٹھو ہو جانے والی طوائف تھی۔ میرٹھ اس کا وطن تھا جہاں وہ شہر کے قریب قریب تمام رنگین مزاج رئیسوں کی منظورِ نظر تھی۔ ہزاروں میں کھیلتی تھی، پر اسے فلموں میں آنے کا شوق تھا چنانچہ یہ شوق اسے کھینچ کر فلمستان میں لے آیا۔

(سعادت حسن منٹو کے قلم سے)

Comments

یہ بھی پڑھیں