The news is by your side.

Advertisement

پشاور دھماکا: مؤذن ٹارگٹ تھے لیکن ابھی تحقیقات جاری ہیں، آئی جی

پشاور : پشاور دھماکے سے متعلق آئی جی ثنااللہ عباسی نے کہا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں نے بتایا تھا کہ تخریبی کارروائیاں ہوں گی لیکن جنرل تھریٹ الرٹ تھا، مخصوص الرٹ نہیں تھا۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل ثناءاللہ عباسی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹرز میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حملے میں 5 سے 6 کلو دھماکا خیز مواد استعمال ہوا جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق ہوئے۔

آئی جی خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا کہ کارروائی سے ایسا لگ رہا ہے کہ موذن ٹارگٹ تھے لیکن ابھی تحقیقات جاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسجد کے موذن کا تعلق افغانستان کے صوبے ننگرہار سے ہے، مسجد کے موذن پر ایک پہلے بھی حملہ ہوچکا ہے، موذن پر 2016 میں بھی حملہ ہوا تھا تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

آئی جی کے پی کا کہنا تھا کہ حال ہی میں باجوڑ سے کچھ افراد کو گرفتار کیا تھا جب کہ خیبر سے بھی گرفتاریاں ہوئی ہیں اور ان سے تفتیش جاری ہے۔

آئی جی کے پی کے کا کہنا تھا کہ باجوڑ اور دیر سے گرفتار دہشت گرد تشکیل کی صورت میں آئے تھے، 100 فیصد ہے حالیہ گرفتار لوگوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں کیونکہ دیر اور باجوڑ سے گرفتار افراد کا تعلق افغانستان سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے بڑے پروگرام تھے جو ہم نے ناکام بنائے ہیں۔

ثناء اللہ عباسی نے بتایا کہ گرفتار دہشت گردوں نے بتایا تھا کہ تخریبی کارروائیاں ہوں گی لیکن جنرل تھریٹ الرٹ تھا، واقعے میں ملزمان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

آئی جی نے یقین دہانی کرائی کہ مدارس کے منتظمین سے کوآرڈی نیشن کرکے سیکیورٹی بہتر کریں گے۔

یاد رہے پشاور کے علاقے دیرکالونی کے مدرسہ میں دھماکہ کےنتیجے میں سات افراد شہید اور چھیانوے سے زائد زخمی ہوگئے، دھماکہ اتنا زوردارتھا کہ پوری عمارت لرزاٹھی۔

پشاور کے مدرسے میں دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں، پولیس کے مطابق دھماکا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا، جس میں پانچ سے چھ کلو کا بارودی مواد شامل تھا جبکہ اے آئی جی بم ڈسپوزل کاکہنا ہے کہ دھماکہ منظم گروپ کی کارروائی لگتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں