The news is by your side.

Advertisement

پشاور میں پولیس ٹارگٹ کلنگ روکنے میں ناکام

پشاور: چار ماہ کے دوران خیبرپختو نخواہ کے دارلحکومت پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کے تیرہ واقعات ریکاڈ کئے گئے تاہم پولیس اب تک پولیس اب تک ملزمان کا سراغ نہ لگاسکی.

تفصیلات کے مطابق پشاور میں پولیس آپریشنز کے باوجود ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کو روکا نہ جا سکا، ملزمان کی جانب چار ماہ کے دوران تیرہ لوگوں کو موت کی گھاٹ اُتار دیا گیا.

ذرائع کے مطابق پشاور میں روزانہ کی بنیاد پر 29 تھانوں کی جانب سے سرچ آپریشن کئے جارہے ہیں لیکن اس کا کوئی فائدہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا، پولیس کی جانب سے اب تک 200 سے زائد چھاپے مارے گئے لیکن کوئی اہم کامیابی حاصل نہ کی جاسکی.

thumbnail_PESH-TARGET-KILLING-PKG-25-04-Mukkaram-680x428

اس سال دہشتگردوں کی جانب سے 7 پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں دو ریٹائرڈ سینئر پولیس افسران سمیت تاجر برادری کے حاجی حلیم بھی شامل ہیں ان کو جنوری میں دہشتگردوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا تاہم پولیس کسی بھی بڑے ہائی پروفائل کیس میں ملزمان کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے.

ڈی آئی جی مبارک زیب کا کہنا تھا کہ پولیس کے حالیہ اجلاس میں ٹارگٹ کلرز کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےاور بہت جلد تمام مجرموں کو گرفتار کرلیا جائےگا.

دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کاروائیوں کو مزید تیز کردیاگیا ہے تاکہ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کو روکا جاسکے.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں