The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے کا طیارہ کیسے تباہ ہوا؟ معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والے مسافر نے آنکھوں دیکھا حال بتادیا

کراچی : طیارہ حادثے میں زندہ بچ جانے والے مسافر محمد زبیر نے حادثے کا آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہا کریش کےبعدچیخ وپکارکی آوازیں آرہی تھیں، میں نے ایک جانب روشنی دیکھی اور چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی۔

تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کے کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے بدقسمت طیارے میں زندہ بچ جانے والے مسافر محمد زبیر نے حادثے سے متعلق بتایا کہ طیارے کو جھٹکے لگے اور کپتان نےکمال مہارت سے دوبارہ اڑان بھری, چکر کاٹنےکےبعدجب پائلٹ نےدوبارہ لینڈنگ کرناچاہی تو انجن فیل ہوگئے۔

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ جیسے ہی جہاز کریش ہوا تو اندھیرا ہوگیا اور چیخ وپکار کی آوازیں گونجنے لگیں، ایک جانب روشنی نظر آئی تو میں اسی جانب گیا اور چھلانگ لگاکر جہازسے باہرنکل آیا۔

خیال رہے بدقسمت طیارے کے حادثے میں زندہ بچ جانے والا خوش نصیب محمد زبیر اسپتال میں زیر علاج ہے، اس حوالے سے صوبائی وزیر سعید غنی نے ٹوئٹر پیغام میں بتایا تھا کہ میری طیارہ حادثے میں زخمی ہونے والے محمد زبیر سے ملاقات ہوئی ہے، محمد زبیر کا 31فیصد جسم جھلس چکا ہے وہ انشااللہ جلد صحت یاب ہوجائیں گے۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ محمد زبیر بتارہے تھے کہ طیارے نے لینڈنگ کی کوشش کی تھی، رن وے سے طیارے نے واپسی کی اور حادثہ ہوگیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور سے آنے والا طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں 97 افراد جاں بحق ہوئے، حادثے میں بینک آف پنجاب کے سربراہ سمیت 2 افراد معجزانہ طور پر بچ گئے، 97 میں سے اب تک صرف 19 افراد کی شناخت کی جا چکی ہے۔

حادثے کے شکار طیارے کا بلیک باکس بھی مل چکا ہے، سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے بلیک باکس اور طیارے کا کچھ حصہ اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں