The news is by your side.

Advertisement

پلاسٹک سرجری کیسے کی جاتی ہے؟ اس کے فائدے اور نقصانات

ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دیکھنے میں اچھا لگے، اس کا چہرہ خوب صورت معلوم ہو، اس کے اعضاء چست دکھائی دیں اور ان پر درازی عمر کے اثرات عیاں نہ ہوں۔

اس کے لیے ایک طریقہ علاج  جس میں انسانی جسم کے کسی عضو کی بناوٹ  یا فعل کو درست کرنے کے لیے ایک خاص طرح کا آپریشن کیا جا تا ہے، جسے پلاسٹک سرجری کہتے ہیں۔

پلاسٹک سرجری کاسمیٹک خامیوں کو دور کرنے کا ایک طریقہ ہے، اس طریقہ کار کے اگر کچھ فائدے ہیں تو کچھ سنگین نقصانات بھی ہیں جن پر سرجری کروانے سے پہلے غور کرنا ضروری ہے۔ پلاسٹک سرجری دیگر  سرجریز کی طرح طبی پیچیدگیوں کا خطرہ رکھتی ہے ۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں چیئرمین ڈی او ایچ ایس کے ہیڈ آف پلاسٹک سرجری ڈاکٹر فیصل اخلاق علی خان تفصیلی گفتگو کی اور سرجری سے متعلق ناظرین کو آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاسٹک سرجری میں پانچ قسم کے مریضوں کا علاج ترجیحی بنیادوں پر کیا جاتا ہے، سب پہلے و ہ لوگ جو جل جاتے ہیں، دوسرے وہ جن کا کسی بھی حادثے میں ہاتھ یا پاؤں کٹ گیا ہو۔

اس کے علاوہ تیسرے نمبر پر وہ بچے جن کے ہونٹ کٹے ہوتے ہیں یا تالو کٹے بچے جبکہ چوتھے وہ جو لوگ کسی حادثے یا منہ کے کینسر کی وجہ سے ان کا متاثرہ عضو خراب ہوجائے۔ پانچویں اور آخری چیز ہے وہ ہے کاسمیٹک سرجری جو جسم کے اندرونی اور بیرونی حصوں میں کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر فیصل اخلاق علی خان نے بتایا کہ اگر کسی حادثے میں ہاتھ یا ٹانگ کٹ جائے تو 6گھنٹے کے اندر اسے جوڑا جاسکتا ہے اور یہ کام ڈاؤ یونیورسٹی میڈیکل میں مفت کیا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں