The news is by your side.

Advertisement

کورونا ایک قومی بحران ہے اس پرسیاست نہ کی جائے،وزیراعظم کی اپیل

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے اپیل کی کہ کورونا قومی بحران ہے اس پرسیاست نہ کی جائے، کچھ ایسے لوگ ہیں جو مایوس ہیں کہ کورونا زیادہ نہیں پھیلا، جو حکومت لاشوں کا ڈیٹا چھپائے گی تو یہ زیادہ غلط حرکت ہوگی، کیا ایسا کرنے سے کیسز رک جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کورونا کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوروناوائرس کے باعث پیدا صورتحال کی مثال پہلے نہیں ملتی، نیشنل کمانڈاینڈآپریشن سینٹر میں تمام ٹاپ ادارے شامل ہیں اور یہ ادارے ہر روز بیٹھتےہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماہرین روزانہ مریضوں اور کورونا کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، ادارے تمام رابطوں کے بعد ایک ڈیٹا مرتب کرتے ہیں اور ہر روز صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہوتا ہے۔

کورونا کیسز کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ پہلے 25اپریل تک 50ہزار کیسز متوقع تھے، اب یہ اندازہ 12سے 15ہزار کیسزتک کا ہے، تاہم متوقع مریضوں کی تعداد کم ہونے پر قوم کو مبارکباد دیتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا اس قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں تھی، دنیا میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں، بڑھتے کیسز کے پیش نظر پوری تیاری کررہے ہیں، 15 سے 20مئی تک کورونا کیسز میں اضافے کا خدشہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ انتہائی نگہداشت کے لئے وسائل درکار ہیں، بروقت اقدامات کے باعث ایک بھی کیس چین سے پاکستان نہیں آیا، آہستہ آہستہ فیصلہ کیا کہ لاک ڈاؤن میں کمی کریں، یورپ اور امریکا کے حالات دیکھیں تو ہمارے حالات ان سے مختلف ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کچی آبادیوں میں لوگ جڑ کر رہتے ہیں،صاف پانی تک نہیں ملتا، مئی کے مہینے تک ہم کورونا سے لڑنے کے لئے مزید تیاری کرلیں گے۔

تعمیراتی شعبے سے متعلق انھوں نے مزید کہا کہ تعمیراتی شعبے کھولنے جارہے ہیں، غریب کیلئے سرکاری اورامیروں کیلئے پرائیویٹ اسپتال ہیں، پاکستان میں طبقاتی نظام بناہوا ہے، پہلے دن سےکہہ رہا ہوں جوفیصلے کررہےہیں کیا غریبوں کا سوچ رہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ زیادہ خطرہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن سےغریب طبقے کے کیا حالات ہوں گے،غریب طبقے کے حالات سے متعلق مجھے بہت خطرہ ہے، ماضی میں پاکستان میں طبقاتی نظام پروان چڑھا، تعمیراتی شعبے کو کھولنے کا فیصلہ مزدورطبقے کے مسائل دیکھتے ہوئے کیا۔

عمران خان نے کہا کہ جورجسٹرڈ نہیں ان مزدوروں تک نہیں پہنچ سکتے، ایک کروڑ20لاکھ خاندانوں میں امدادی رقم پہنچا رہے ہیں، اگر لوگ بھوک سے لوگ سڑکوں پرآجائیں گےتو لاک ڈاؤن کا مقصد ختم ہوجائے گا، لوگ باہر آگئے تو سماجی فاصلے بھی ختم ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس اختیارات ہیں، امریکا سمیت دیگر ممالک میں مزدور رجسٹرڈ ہیں، کنسٹرکشن شعبے میں صنعت کاروں کو شرکت کا کہا تاکہ لوگ بھوک سےبچیں۔

لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن ڈنڈے سے مینٹین نہیں ہوگا، شہری خود سمجھیں، جب کورونا پھیلتا ہے تو ان کی بیماری، لاک ڈاؤن سے قوم متاثر ہوتے ہیں، اینکرز،علما و دیگر عوام کو بتائیں کہ لاک ڈاؤن سب کی بھلائی کیلئے ہے، جتنا جلد لاک ڈاؤن کامیاب ہوگا اتنا ہی بہتر ہے۔

رمضان پالیسی سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں سب مساجد میں جاناچاہتے ہیں، صدرعارف علوی نے علما کے ساتھ میٹنگ کی، اپیل ہے امام مسجد طے شدہ چیزوں اور نمازیوں سےمساجدمیں پابندی پرعملدرآمد کرائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنی بساط کے مطابق معاشی ریلیف پیکج دیا ہے،کوروناپھیلا توفیکٹری یاکنسٹرکشن سائٹس بھی بند ہوجائیں گی۔

وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے خطرہ ہے لوگوں نے پیسہ بنانےکیلئےذخیرہ اندوزی کرنی ہے، ذخیرہ اندوزی پرآرڈیننس بن گیا ہے اب بہت سختی ہوگی ، جوناجائزپیسہ بنانےکی کوشش کریں ان کوپکڑاجائے گا، ایسانہیں ہوگا کہ چھوٹوں کو پکڑاجائے گا ، بڑوں پر بھی ہاتھ ڈالیں گے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ اسمگلنگ سےمتعلق بھی آرڈیننس آنےوالا ہے، ذخیرہ اندوزی،اسمگلرزکوبتادوں 2آرڈیننس بن گئے بہت سختی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاست ہر موڑ پر چلتی ہے، نیشنل کرائسزمیں پی ٹی آئی ہی نہیں تمام جماعتیں متاثر ہیں ، دو تین ہفتے سے سیاست کی جارہی ہے اسے بند کریں، ایک طبقہ ایسا ہے جولگتا ہے کورونا سے زیادہ اموات نہ ہونے پر مایوس ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ کوروناوائرس سے متعلق کئی ملکوں نے غلطیاں کی ہیں، پہلےدن سے جو حکومت نے اقدامات کئے اس کے مطابق حالات صحیح ہیں، کہاجارہاتھاکراچی میں کوروناسےلاشیں زیادہ ہونے لگ گئی ہیں، کیا خوف پھیلایاجارہا ہے،یہ غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جو حکومت لاشوں کا ڈیٹاچھپائے گی تو یہ زیادہ غلط حرکت ہوگی، حکومت کےچھپانے سے کیا کیسز رک جائیں گے، نیشنل کمانڈ اینڈآپریشن سینٹر ملک بھر کا ڈیٹا اکٹھا کررہاہے، وہاں سے ڈیٹاچیک کرلیں، ہمیں چھپانے کی کیا ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ قوم نے مشکل وقت گزارا،لاک ڈاؤن کےباعث کوروناتیزی سےنہیں پھیلا، یہ کرائسز ہیں اس پر سیاست نہ کھیلی جائے ، کیاہم کیسزچھپائیں گے تو کوروناختم ہوجائے گا۔

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ کچھ ایسے لوگ ہیں جو مایوس ہیں کہ کورونا زیادہ نہیں پھیلا، بغیرتصدیق کہا گیا کہ حکومت کورونا سے ہلاکتوں کو چھپارہی ہے، جب لاک ڈاؤن شروع ہوا تو تمام توجہ کورونا وائرس پر آگئی۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں جیسےپولیوہے،یہ بھی پھیلتا ہے،اسےکنٹرول کرناہے، پولیو کا اثرپھیلتا ہے تو دنیا ہمیں باہر جانے سے روک سکتی ہے، ایسانہ ہوکہ کورونا سے بچاتے بچاتے لوگ دیگربیماریوں سے نہ مریں۔

بیرون ملک پاکستانیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کوروناکےباعث لاک ڈاؤن سےزیادہ اثراوورسیزپاکستانیوں پرپڑا، میری نظر میں محنت کش،ڈرائیورزجوبیرون ممالک پھنس گئے وہ متاثرہوئے،اوورسیزپاکستانیز یہ ذہن سےنکال دیں کہ ہم ان کو بھول گئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں