وزیراعظم سے یو اے ای کے وفد کی ملاقات، معیشت کے فروغ کیلئے معاہدوں پراتفاق -
The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم سے یو اے ای کے وفد کی ملاقات، معیشت کے فروغ کیلئے معاہدوں پراتفاق

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان سے متحدہ عرب امارات کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں ملکی اقتصادی صورت حال پر تفصیلی گفتگو اور باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری پر بھی مشاورت کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے یو اے ای کے وفد نے ملاقات کی، وفد کی قیادت وزیر مملکت سلطان احمد الجبیر نے کی۔ اس موقع پر وزیر خارجہ، وزیر خزانہ اور اوور سیز کے وزیر بھی موجود تھے۔

ملاقات میں ملکی اقتصادی صورت حال پر تفصیلی گفتگو کی گئی اس کے علاوہ یو اے ای کے ساتھ تجارت اور معیشت کے فروغ کیلئے معاہدوں پر اتفاق کیا گیا، یواے ای وفد نے شیخ محمد بن زیدالنہیان کا خصوصی پیغام وزیراعظم کو پہنچایا،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری پر بھی مشاورت کی گئی۔

وزیراعظم نے یو اے ای کے وفد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ توانائی اور پٹرولیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا سنہری موقع ہے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یو اے ای پاکستان سے دیرینہ تعلقات کی مضبوطی کیلئے سنجیدہ ہے، یو اے ای وفد چاہے تو یہاں سرمایہ کاری کیلئے جائزہ لے سکتا ہے۔

اس موقع پر وفد نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور اسٹریٹجک پارٹنر شپ چاہتا ہے، ہم پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں، خطے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت سے بخوبی واقف ہیں، یہاں کم وقت میں سرمایہ کاری سے مثبت نتائج حاصل کئے جاسکتےہیں۔

اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سے سعودی عرب جیسے پیکج پربات ہوئی ہے، گوادر اور کراچی میں پانی کا بحران حل کرنے پر بات ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یو اے ای نے اپنے سمندر کے پانی کو قابل استعمال بنایا، یو اے ای کے وفد سے ویزا معاملات بھی آسان بنانے پر مشاورت کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں : پاکستان کا امریکا اور برطانیہ سمیت اہم ممالک میں نئی سفارتی تقرریوں کا اعلان

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو چاول، پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات بڑھانے کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ ملاقات میں خوراک کی پروسیسنگ کی صنعت میں مشترکہ تعاون پر بھی غور کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں