The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم کی ٹیکس نادہندگان کے لیے ایمنسٹی اسکیم، سیاست داں فائدہ نہیں‌ اٹھا سکتے

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی جانب سے ٹیکس نادہندگان کے لیے ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے، سیاست دان اسکیم سے فائدہ نہیں‌ اٹھا سکیں گے.

تفصیلات کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا، ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے انقلابی ٹیکس اقدامات کا فیصلہ کیا ہے، پالیسی میں 5 بنیادی نکات ہیں.

سیاست داں، سرکاری ملازمین کے زیرکفالت افراد اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے، اسکیم میں آنے والے باقی افراد کی حفاظت کے لیے صدارتی آرڈرجاری ہوگا۔

شاہد خاقان عباسی

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ٹیکس کی ادائیگی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا، قومی شناختی کارڈ نمبر اب نیشنل ٹیکس نمبر ہوگا، شناختی کارڈ ہولڈر ایک فارم کے ذریعے ٹیکس بھر سکیں گے.

انھوں نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم کا مقصد یہ ہے کہ شہری اپنے اثاثے ظاہر کریں، جو بھی ایمنسٹی اسکیم حاصل کرے گا، وہ ٹیکس بھی ادا کرے گا، ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والا ٹیکس دہندہ بنے گا، اسکیم لینے والوں کو5 فیصد ون ٹائم پنالٹی بھرنی ہوگی.

وزیراعظم نے کہا کہ جن لوگوں کے پیسے ملک سے باہر ہیں، انھیں 2 فیصد پنالٹی بھرنی پڑے گی، مثال کے طور پر اگر آپ 100 ڈالر ملک میں لائیں گے، تو 2 ڈالر بھرنے پڑیں گے، جائیداد ظاہر کریں گے، تو اس پر 3 فیصد پنالٹی بھرنا پڑے گی.

انھوں‌ نے کہا کہ جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے، ان کے خلاف کارروائی بھی کرسکتے ہیں۔ انکم ٹیکس ریٹ کو بہ تدریج کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بارہ لاکھ سے 24 لاکھ انکم پر 5 فیصد ٹیکس ہوگا، 48 لاکھ تک پرانکم ٹیکس کی شرح 10فیصد ہوگی، ایمنسٹی اسکیم کا مقصد یہ نہیں کہ حکومت ریویو حاصل کرسکے۔ 

انھوں نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم آج سے 30 جون تک جاری رہے گی، یکم جولائی کو ٹیکس نہ دینے والوں کو نوٹسز دیے جائیں گے، ہمارا مقصد کسی کے گھر پولیس بھیجنا نہیں، مقصد عوام کو ایف بی آر کے طریقہ کار سے بچانا ہے۔

ٹیکس کی ادائیگی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا، قومی شناختی کارڈ نمبراب نیشنل ٹیکس نمبر ہوگا، شناختی کارڈ ہولڈر ایک فارم کے ذریعے ٹیکس بھر سکیں گے

شاہد خاقان عباسی

وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سیاست دانوں کے لیے نہیں ہے، سیاست داں، سرکاری ملازمین کے زیرکفالت افراد اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے، اسکیم میں آنے والے باقی افراد کی حفاظت کے لیے صدارتی آرڈرجاری ہوگا۔

آف شورکمپنیاں رکھنے والوں کے لئے خوشخبری

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ آف شورکمپنیاں اثاثہ ہیں، کمپنیاں رکھنے والے افراد اسکیم میں شامل ہوسکتے ہیں، یہ اسکیم تمام پاکستانیوں کے لیے ہے، ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے قانون کی گرفت میں آئیں گے۔

امریکی ایئرپورٹ پر تلاشی

جب وزیر اعطم سے امریکی ایئرپورٹ پر تلاشی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انھوں نے کہا کہ  امریکا کا دورہ نجی تھا۔

انھوں نے کہا کہ  پچھلے 40 سال سے امریکا کا سفر کررہا ہوں، بل کلنٹن کو بھی اسی سیکیورٹی سے گزرتے دیکھا ہے، امریکا میں سیکیورٹی سے گزرنا کوئی بےعزتی کی بات نہیں۔

چیف جسٹس ملاقات

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے ملکی معاملات پرمشاورت کی، عدالتی کارروائی سڑکوں کی زینب بنی، جس سے عدم استحکام پیدا ہوا، چیف جسٹس سے کوئی ذاتی بات نہیں کی صرف ملک کی بات کی۔

سینیٹ سے متعلق متنازع بیان

سینیٹ سے متعلق اپنے بیان پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نہ تو جج ہو، نہ ہی پولیس والا، میں نے سیدھی بات کی، میری رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ، بہت سے سینیٹرز پیسے دے کر آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کیا چیئرمین سینیٹ کہے سکتے ہیں کہ الیکشن میں پیسہ استعمال نہیں ہوا؟ عمران خان کہہ سکتے ہیں کہ میرے 14ایم پی اے نہیں بکے؟َ کسی کااستحقاق مجروح ہوتا ہے، تو پروا نہیں، برائی کے خلاف بات کرنا حق ہے، ہارس ٹریڈنگ کو برا سجھتا ہوں۔

کیا کوئی این آراو ہورہا ہے؟

 ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی این آر او نہیں ہو رہا، ہم این آر او والے نہیں، این آر او والے پرویز مشرف دبئی میں ہیں، این آر او والے آصف زرداری کراچی میں ہیں، ان سے جا کر پوچھیں۔

کیا نواز شریف نے کبھی ہدایت دی؟

ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب سےوزیراعظم بنا ہوں، نوازشریف نے کبھی کوئی ہدایت نہیں دی، میں کسی کی ہدایات لینے والا آدمی نہیں، نوازشریف نے کبھی ہدایات دینے کے لیے فون نہیں کیا۔

اے آروائی نیوز کوسوال کی اجازت نہیں دی گئی

وزیراعظم کی پریس کانفرنس میں اے آروائی نیوز کوسوال کی اجازت نہیں دی گئی، نمائندہ اےآروائی نیوز سوال کےلئے باربار گزارش کرتے رہے ، وزارت اطلاعات کے اسٹاف نے نمائندہ اے آر وائی نیوز کو سوال کا موقع نہیں دیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں