The news is by your side.

Advertisement

بلاول بھٹو کے بیان پر ن لیگ کا ردِ عمل

لاہور: بلاول بھٹو زرداری کے ن لیگ اور مریم نواز پر طنز کا جواب دیتے ہوئے ن لیگ نے کہا ہے کہ ہم پی پی کے ساتھ دوریاں نہیں چاہتے، سیاسی باتوں کا جواب سیاسی ہی ہونا چاہیے۔

اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے پی پی چیئرمین کے طنز پر کہا ہے کہ مریم نواز نے ہمیں ہدایت کی کہ سیاسی بات کا سیاسی جواب دیا جانا چاہیے، سیاسی بیانات کے جواب میں ذاتی نوعیت کے حملے کمزوری کی نشانی ہے۔

پی پی کے پی ڈی ایم سے علیحدگی کے سوال پر انھوں نے جواب دیا کہ  نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی بیان بازی سے دوری اختیار کرنی چاہیے، سیاسی باتوں کا سیاسی جواب ہی ہونا چاہیے، ہم پیپلز پارٹی سے دوریاں نہیں معاملات حل کرنا چاہتے ہیں، بلاول نے کیا سوچ کر بیان دیا، ہم یہ بیٹھ کر ان ہی سے سمجھ لیں گے۔

انھوں نے کہا استعفوں پر 9 جماعتوں کا ایک اور پیپلز پارٹی کا الگ مؤقف تھا، پیپلز پارٹی نے استعفوں سے متعلق 4 اپریل تک مہلت مانگی ہے، اس لیے تب تک پی پی کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ آج لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں بلاول نے طنز کے تیر چلاتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری رگوں میں سلیکٹ ہونا شامل نہیں، لاہور کا ایک خاندان ماضی میں سلیکٹ ہوتا رہا ہے، مسلم لیگ ن کی نائب صدر (مریم نواز) کو جواب دینا ہوتا تو اپنے نائب سے صدر سے دلواتا۔

پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں ٹھن گئی، بلاول کا مریم نواز پر بڑا طنز

انھوں نے کہا ہماری تیاری مکمل تھی، ہمارے کمرے تک ہوٹل میں بک ہو چکے تھے، لانگ مارچ ملتوی نہیں ہونا چاہیے تھا، یہ سوال ضرور کروں گا کہ لانگ مارچ کو استعفوں سے جوڑنے کا مشورہ کس کا تھا۔

بلاول نے کہا استعفے لانگ مارچ سے جوڑنے تھے تو فیصلے کرتے وقت ایسا کرتے، نہ کہ 10 دن پہلے، ہم نے حکومت کو نقصان الیکشن لڑنے میں ہی پہنچایا اور حکومت کو ٹف ٹائم دیا، جمہوری اصول ہے جس کی اکثریت ہوتی ہے اس کا اپوزیشن لیڈر بھی ہونا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں