ملتان، زمین پر قبضے کے خلاف احتجاج، بزرگ جوڑے پر پولیس کا انسانیت سوزتشدد multan
The news is by your side.

Advertisement

ملتان، زمین پر قبضے کے خلاف احتجاج، بزرگ جوڑے پر پولیس کا انسانیت سوزتشدد

ملتان : پولیس نے احتجاج کرنے والے بزرگ جوڑے سے انسانیت سوز سلوک کرتے ہوئے سڑک پر گھسیٹتے رہے اور بزرگ جوڑے پر تشدد کرتے ہوئے تھانے لے گئے.

اے آر وائی نیوز کے نمائندے طاہر خان کے مطابق ناردرن بائی پاس کی رہائشی 75 سالہ نسیم بی بی اپنے شوہر کے ہمراہ صبح سے ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے باہر اپنی زمین پر مبینہ قبضے کے خلاف ایک بینر اٹھائے احتجاج کررہے تھے.

بزرگ خاتون کے احتجاج سے تنگ ایم ڈی اے اہلکاروں نے پہلے بزرگ خاتون سے بینرز چھین کر پھاڑ دیئے اور احتجاج ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تاہم بزرگ جوڑے کے انکار پر پولیس طلب کر لی گئ.

دوسری جانب پولیس جو چوری ڈکیتی کی وارداتوں پر گھنٹوں غائب رہتی ہے لیکن بزرگ جوڑے کو احتجاج سے روکنے کے لیے فوری طور پہچنی اور ایس ایچ او غلام مصطفی نے لیڈی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ بزرگ جوڑے کو سڑک پر گھسیٹ کر پولیس موبائل میں اپنے قدموں میں ملزمان کی طرح بٹھا لیا.

تھانے لے جانے کے دوران پولیس موبائل مین ہی بزرگ جوڑے پر تشدد کرتے رہے اور انہیں جوتوں سے پیٹتے رہے جب کہ بزرگ خاتون دہائی دیتی رہیں کہ چند سرکاری اہلکار ان کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس کے خلاف مختلف سرکاری محکموں کے دھکے کھا کر آج پر امن احتجاج پر مجبور ہوئے تھے.

تاہم پولیس اہلکار بزرگ جوڑے کی دہائی سننے کے بجائے انہیں مسلسل تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور جب معاملہ میڈیا تک پہنچا تو پولیس کے اعلیٰ افسران غفلت کی نیند سے جاگے اور آر پی او ملتان ادریس احمد اور سی پی او ملتان نے نوٹس لیتے ہوئے تشدد میں ملوث ایس ایچ او سمیت تمام اہلکاروں کو معطل کر کے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں