The news is by your side.

Advertisement

چترال میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں کا تحریک انصاف کے کارکن پرتشدد

چترال:حلقہ پی کے 1 چترال سے پیپلزپارٹی کے امیدوار(سابق ایم پی اے) غلام محمد اور ان کے حامیوں نے غنڈہ کردی ، کارکردگی کا سوال پوچھنے والے پی ٹی آئی کے کارکن کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

تفصیلات کے مطابق ایک خطاب کے دوران پیپلز پارٹی کے امیدوار برائے قومی اسمبلی سلیم خان تحریک انصاف حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے تھے، اس موقع پر موجود تحریک انصاف کے مقامی کارکن نے ان سے یہ سوال پوچھا کہ ’’پیپلز پارٹی چترال میں 10 سال اقتدار میں رہی ہے، آپ اپنی کارکردگی بتائیں‘‘۔ یہ سوال پوچھنا تھا کہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار حاجی غلام محمد اٹھ کھڑے ہوئے اور سوال پوچھنے والے کو مغلظات بکنا شروع کردیں۔اس کے ساتھ ہی ان کے ہمراہ آئے ہوئے حامیوں نے غنڈہ گردی کی انتہا کردی۔ مقامی شخص کو مار مار کر ہاتھ پاؤں اور دونوں ٹانگیں زخمی کرڈالا ۔ متاثرہ شخص مقامی تھانے ایف آئی آر درج کرانے گیا تو پیپلزپارٹی کے امیدواروں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پولیس نے بجائے ایف آئی آر درج کرنے کے زخمی حالت میں بغیر کوئی ابتدائی طبعی امداد دئیے متاثرہ شخص کو 4 گھنٹے تک حوالات میں بند کئے رکھا۔

پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی اس غنڈہ گردی کی ویڈیو اور متاثرہ شخص کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد چترال کے عوام حکومت اور الیکشن کمیشن سے فوری ایکشن لینے اور امیدواروں کو تا حیات نا اہل قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔

دوسری جانب لودھراں میں بزرگ سپورٹر ظفر اقبال عرف مٹھو کو بھی پی ٹی آئی کے پوسٹرز لگانے پر مسلم لیگ ن کے کارکنان نے تشدد کا نشانہ بنایا، تشدد کا نشانہ بننے والے کارکن کو زخمی حالت میں ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بزرگ کارکن کی حالت بحال ہونے پر قانونی کارروائی کا آغاز ہوگا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں