The news is by your side.

موجودہ حالات میں گورنر راج نہیں لگایا جاسکتا، ماہر قانون

اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر شعیب شاہین نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی اسمبلی میں گورنر راج نہیں لگایا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر شعیب شاہین نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے پاس دو تہائی اکثریت ہے۔ پنجاب میں تحریک انصاف کا ایک بھی رکن پارٹی چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ لوگ اگر تحریک عدم اعتماد لے بھی آتے ہیں تو کامیاب نہیں ہوگی۔

ماہر قانون کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق وزیر اعلیٰ کی سمری پر گورنر 48 گھنٹے میں اسمبلی تحلیل کرنے کے پابند ہیں۔ اگر گورنر اسمبلی تحلیل نہیں کرتے تو 48 گھنٹے بعد وہ خود بخود تحلیل ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے ان کے پاس سے پنجاب حکومت گئی ہے یہ تب سے گورنر راج کی باتیں کر رہے ہیں۔ عمران خان نے سرپرائز دیا اس لیے بوکھلاہٹ میں ایسی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ٓئین کے مطابق غیر یقینی یا جنگ کی صورتحال میں ہی گورنر راج لگایا جا سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں گورنر راج نہیں لگایا جا سکتا۔

شعیب شاہین نے مزید کہا کہ 2 اسمبلیاں تحلیل ہونے پر انتخابات کرا بھی دیے تو صوبوں میں نئی حکومت 5 سال کے لیے ہوگی جب کہ وفاق میں 6 بعد الیکشن ہو رہے ہوں گے۔ اگر ایسا ہوا تو ملک میں پھر سیاسی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ معیشت اور ملک تباہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ حکومت کرتےجا رہے ہیں۔

ماہر قانون نے کہا کہ عمران خان بڑا سرپرائز دے کر اہم کارڈ کھیل گئے ہیں۔ وہ اس وقت ملک کے مقبول لیڈر ہیں اور کوئی ممبر انہیں چھوڑ کر نہیں جائے گا کیونکہ جو چھوڑ کر گئے ان کی حالت سب نے دیکھ لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سیاسی صورتحال اتنی مضبوط ہے کہ وہ پنجاب اور کے پی میں دوبارہ حکومت بنا سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں