The news is by your side.

Advertisement

کتابوں، کاپیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں!

 موجودہ سیاسی حالات اور مالی طور پر غیریقینی صورتحال کے باعث ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے تعلیمی نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

طلبہ وطالبات کے والدیں والدین پہلے ہی تعلیمی نصاب کی عدم دستیابی کی وجہ سے پریشان تھے اور اوپر سے کاغذ کی بڑھتی قیمت ان کیلئے نیا امتحان بن گئی۔

کاغذ کی قیمتوں میں اضافے سے کتابیں اور کاپیاں بھی مہنگی ہوگئیں،ان میں استعمال ہونے والے کاغذ کی نئی قیمت پندرہ روپے اضافے کے ساتھ 250 روپے فی کلوگرام ہوگئی۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں صدر ٹیکسٹ بک پبلشرز ایسوسی ایشن فواد نیاز نے بتایا کہ پاکستان میں چار پانچ بڑے کاغذ مل مالکان ہیں جو جان بوجھ کر پروڈکشن کم رکھتے ہیں تاکہ زیادہ ریٹ مل سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ کاغذ کی جو قیمت بھارت میں ہے اسی کاغذ کا ریٹ یہاں اس سے کہیں زیادہ ہے، لیکن ان لوگوں کو یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں۔

علاوہ ازیں اردو بازار لاہور کے پبلشرز کے مطابق صرف چھ ماہ میں کراؤن کاغذ کی قیمت 75 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جس کے اثرات جولائی میں نئے کورس نصاب پر نظر آئیں گے۔

ذرائع کے مطابق مقامی کاغذ مل مالکان نے اپنی اجارہ داری قائم کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر قیمتیں بڑھانی شروع کی ہیں جس طرح چینی مافیا نے قیمتیں بڑھائی تھیں اگر سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اپنے دائرہ کار کو یہاں بھی اپلائی کرے تو کاغذ کی قیمتوں کی اصل کہانی سامنے آجائے گی۔

پبلشرزاور والدین کا کہنا ہے کہ حکومت کاغذ کی بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول میں لائے تاکہ غریب والدین اپنے بچوں کو تعلیم جاری رکھ سکیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو غریب کے بچوں کا تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں