The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی اے نے بیگو لائیو پر سے پابندی اٹھالی

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل ایپلیکیشن بیگو لائیو پر سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔

پی ٹی اے نے 21 جولائی کو  عوامی شکایات پر ایکشن لیتے ہوئے ویڈیو شیئرنگ موبائل ایپلیکیشن ٹک ٹاک کو آخری وارننگ جاری کی اور بیگو ایپ کو ملک بھر میں بلاک کردیا تھا۔

پاکستان میں ویڈیو شیئرنگ موبائل ایپلیکیشن ٹک ٹاک کے خلاف شہریوں کی جانب بے تحاشا شکایتیں درج کرائی جارہی تھی جس پر پاکستان ٹیلی کمیونکیشن نے ایکشن لیتے ہوئے ٹک ٹاک کو وارننگ جاری کردی تھی۔

پابندی اور آخری مہلت کے حوالے سے پی ٹی اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’نازیبا اور غیر اخلاقی مواد کی شکایات موصول ہوئیں اور جن پر تحقیقات کرنے سے معلوم ہوا کہ غیر اخلاقی مواد سے معاشرے کے نوجوان بری صحبت اخٹیار کررہے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: پی ٹی اے کی ٹک ٹاک کو آخری وارننگ، بیگو ایپ بلاک کردی

پاکستان ٹیلی کمیونکیشن نے سوشل میڈیا کمپنیز کو نازیبا اخلاق سے متعلق نوٹسز جاری کیےتھے، جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ وہ فوری طور پر اپنے پلیٹ فارم پر شیئر ہونے والے مواد کو ہٹائیں یا پھر پاکستان میں اس کی تشہیر کو روکیں۔

پی ٹی اے حکام کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک، بیگو نے غیر اخلاقی، نازیبا مواد نہیں ہٹائے جس کے بعد ملکی قوانین کے تحت بیگو ایپ بلاک کردیا گیا جبکہ غیراخلاقی نازیبا مواد پر ٹک ٹاک کو حتمی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

ٹک ٹاک نے آخری مہلت ملنے کے بعد پاکستانی حکام سے رابطہ کیا اور تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جبکہ بیگو کے حکام سے بھی پی ٹی اے کا کامیاب رابطہ ہوا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بیگو سے کامیاب روابط کے بعد پی ٹی اے نے پاکستان میں بیگو پر عائد ہونے والی پابندی اٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی اے نے پب جی گیم پر پابندی ختم کردی

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی اے اتھارٹی کے ممبران اور بیگو کے نائب صدر ساوتھ ایشیاء آپریشنز  جھون ژانگ کے مابین ایک اجلاس کا انعقاد  ہوا۔ جس میں انہوں نے غیر اخلاقی اور غیر مہذب مواد کو موڈریٹ کرنے کے حوالے سے اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔

بیگو انتظامیہ نے غیر قانونی مواد کے مسئلے کے حل کے حوالے سے پی ٹی اے کے ساتھ اقدامات کا تسلسل جاری رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں