The news is by your side.

Advertisement

پیوٹن کی بیٹیوں پر بھی پابندیاں عائد

واشنگٹن: امریکا نے روسی صدر پیوٹن کی بیٹیوں پر بھی پابندیاں عائد کر دیں۔

تفصیلات کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی بیٹیوں پر امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، امریکی حکومت نے بدھ کو دونوں بیٹیوں پر پابندیاں لگائیں جن کے بارے میں زیادہ معلومات کبھی منظر عام پر نہیں آئیں۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ صدر پیوٹن کی بیٹی کترینا تیخونووا ایک ٹیکنالوجی کمپنی کی سربراہ ہیں، جو روسی دفاعی صنعت کو مدد فراہم کرتی ہے، جب کہ دوسری بیٹی ماریہ ورونوٹسوا سرکاری فنڈز پر چلنے والے جینیاتی تحقیق کے پروگراموں کی سربراہی کرتی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک سینیئر امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ پیوٹن کے اثاثے ان کے خاندان کے افراد کی آڑ میں چھپائے گئے ہیں۔

ادھر کریملن کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پیوٹن کی بیٹی ماریہ 1985 میں پیدا ہوئی تھیں، اس وقت پیوٹن روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کے لیے ابھی جرمنی کے شہر ڈرزڈن منتقل نہیں ہوئے تھے۔

گزشتہ برسوں میں پیوٹن نے اپنے خاندان کے افراد کے بارے میں بہت کم بات کی ہے، مختلف مواقع پر انھوں نے اپنی بیٹیوں کے بارے میں صرف اتنا بتایا کہ ان کی تعلیم روسی یونیورسٹیوں میں ہوئی ہے اور وہ کئی یورپی زبانیں بول سکتی ہیں، صدر پیوٹن کے نواسے نواسیاں بھی ہیں۔

روسی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ماریہ ورونوٹسوا اینڈوکرائنولوجسٹ (جسمانی غدودوں کی ماہر) ہیں جو ایک بڑی میڈیکل ریسرچ کمپنی سے وابستہ ہیں، یہ کمپنی کینسر کے علاج کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔

کترینا تیخونووا ایک ریاضی دان ہیں جو روس کی ایک یونیورسٹی سے منسلک سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فاؤنڈیشن کی سربراہ ہیں، کترینا ایکروبیٹک راک اور رول ڈانسر بھی ہیں جو کئی اہم عالمی مقابلوں میں حصہ لے چکی ہیں۔

کئی برس قبل روسی صدر نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی بیٹیوں کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں