site
stats
اہم ترین

کوئٹہ: سول اسپتال میں دھماکا، 74افراد جاں بحق، 112 زخمی

  کوئٹہ : بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے سول اسپتال میں  دھماکہ ہوا ، جس کے نتیجے میں 74 افراد جاں بحق جبکہ 112 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آج بروز پیربلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سول اسپتال کے شعبہ حادثات کے دروازے پر ہوا جس کے نتیجے میں آج نیوز کے کیمرا مین شہزاد سمیت 74 افراد جاں بحق اور 112 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے وزیرِ صحت رحمت بلوچ نے اے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پولیس سرجن کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق 93 افراد اب تک اس سانحے میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی قومی ذمہ داری ہے کہ اس وقت اپنے زخمی ہم وطنوں کی مدد کے لیے باہر نکلیں اور خون کے عطیات دیں، انہیں ان لوگوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جو قطاریں لگا کر خون کے عطیات دے رہے ہیں۔

کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گردی کے بڑے واقعات*

 زخمی ہونے والے افراد کوکمبائنڈ ملٹری اسپتال کوئٹہ اوردیگر نجی اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔

 تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ واقعہ خود کش نوعیت کا ہے اورحملہ آور نے 08 سے 10 کلو بارود استعمال کیا ہے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کوئٹہ پہنچ گئے

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کوئٹہ پہنچ چکے ہیں، انہوں نے کمانڈر سدرن کمانڈ عامر ریاض کے ہمراہ سول اسپتال کوئٹہ کا دورہ کیا اورزخمیوں کی عیادت کی۔

آرمی چیف کی زخمیوں کی عیادت*

زخمیوں کی عیادت کےبعد آرمی چیف اسپتال سے روانہ ہوگئے اور اطلاعات ہیں کہ کچھ دیر بعد ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے جس میں وزیراعظم نواز شریف بھی شرکت کریں گے جبکہ وزارتِ داخلہ اور انٹلی جنس اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔

کمانڈر سدرن کمانڈ عامر ریاض کاسول اسپتال کا دورہ

کمانڈر سدرن کمانڈ عامر ریاض نے سول اسپتال کوئٹہ کا دورہ کیا انہوں جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی۔

اسپتال کے ایم ایس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود اسپتال عملے کی خدمات قابل ستائیش ہے،دشمن بزدل ہے اس تک ضرور پہنچیں گے۔

سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، دھماکہ انتا زور دار تھا کہ اس کی آوازدور دور تک سنی گئی،دھماکے کے بعد اسپتال میں بھگدڑ مچی گئی جبکہ عمارت کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

دھماکا اسپتال کی شعبہ حادثات کے بیرونی دروازے پر ہوا، جہاں اب سے کچھ دیر قبل ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے وکیل بلال کاسی  کی میت  وصول کرنے کے لیے وکلا کی بڑی تعداد موجود تھی، دھماکے میں کئی وکلا زخمی ہو گئے جن میں سے  کئی زخمیوں کی حالت نازک ہے، تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔


بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر ہلاک


 واضح رہے کہ آج صبح دھماکے سے کچھ دیر قبل بلوچستان بار کونسل کے صدر بلال انور کاسی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

Q-post-2

صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی مذمت

صدرمملکت ممنون حسین اور وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کوئٹہ میں ہونے والے اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور اور ملک اور قوم کے دشمنوں کاآخری سانس تک پیچھا کیا جائے گا۔

وزیراعظم نواز شریف نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں عوام ، فورسز اور پولیس کی بے پناہ قربانیوں کے بعد امن بحال ہوا، کسی کو بلوچستان کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤنآج سے شروع ہوگا: وزیر داخلہ بلوچستان 

واقعے میں ملوث افراد کو معاف نہیں کیا جائے گا: وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے سول اسپتال کوئٹہ میں ہونے والے خود کش حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا واقعہ بزدلانہ واقعہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہاہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔

سابق صدآصف زرداری کی مذمت

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کےساتھ کوئی رعایت نہ کی جائے ۔

کوئٹہ کےاسپتال میں دھماکے پر مذمتی بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وکلاءاور صحافیوں کے قاتلوں کو سخت سزائیں دی جائیں ۔ انہوں نے کوئٹہ میں دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت اور جانی ضیاع پر اظہار افسوس کیا ۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے: خورشید شاہ

پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بربریت اور دہشت گردی کے خاتمے کےلیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے،پاکستان دہائیوں سے بدترین دہشت گردی کا شکا ر ہے

دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن ہوگا: وزیرِ داخلہ بلوچستان

اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز ببگٹی نے افسوسناک واقعہ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورا بلوچستان ٖغم اور دکھ کی کیفیت میں ہے،دہشت گرد عام شہریوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں ان کا مقصد عوام میں خوف پھیلانا ہے لیکن ہم دہشت گردوں کے ان عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف پہلے ہی کاروائیاں جاری ہیں تاہم آج سے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کریک  ڈاؤن کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہم وار زون میں ہیں اس لیے ہر وقت کسی نہ کسی حوالے سے امن عامہ میں خلل پڑنے کا خدشہ رہتا ہے ،تا ہم صدر بلوچستان بار ایسوسی ایشن یا وکلا برادری پر حملے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔

وزیر داخلہ بلوچستان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہار نہیں مانیں گے اور جلد ہی کریک ڈاون آپریشن کر کے دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

خودکش حملے کے شہداء کو ذاتی طور پر جانتا تھا: ڈاکٹرعبدالمالک

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سول اسپتال میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے آج ہمارے لیے سیاہ دن ہے ، خود کش حملے کے تمام شہدا کو ذاتی طور پر جانتا تھا۔

سکیورٹی فورسز اپنی تمام تر توجہ دہشتگردی کے خاتمے کی طرف دے رہی ہیں لیکن اس کے باوجود اس طرح کے واقعات ہورہے ہیں جس کا واضح مطلب ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو متحد کرنا ہوگا اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کا از سر نوجائزہ لینا ہوگا اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔

گورنر سندھ  ڈاکٹرعشرت العباد کی مذمت

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے سول اسپتال کوئٹہ میں دہشت گردوں کے حملہ میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے، دہشت گرد اس طرح کی کاروائیوں سے قوم کو ڈرا نہیں سکتے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان کی خصوصی گفتگو

بلوچستان حکومت کے ترجمان انوارالحق کاکڑ نے اے آروائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلال کاسی کا تعلق شہر کے ایک ممتاز گھرانے سے تھا اور لوگ ان کی میت وصول کرنے کثیر تعداد میں آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میتوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کچھ دیر میں حتمی اطلاع فراہم کی جائے گی۔

سیکیورٹی وارننگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حتمی طور پر سیکیورٹی ادارے ہی بتاسکتے ہیں تاہم سیکیورٹی الرٹ تو رہتا ہے کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے بھی ایسا ہوا تھا کہ شہر میں ایک ٹارگٹ کلنگ ہوئی، اور جب پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی ناصر خان ہزارہ جب اسپتال پہنچے تو دھماکہ ہوگیاتھا جس میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

سوگ

حادثے کے ردعمل میں بلوچستان بار کونسل اور کراچی بار کونسل نے تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا ہے، اس موقع پر عدالتی سرگرمیاں بند رہیں گی اور وکلاء بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔

دوسری جانب کوئٹہ کی تاجر برادری نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہربھر میں بھرپور شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top