The news is by your side.

Advertisement

کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل بدنما داغ قرار، خواتین کی واپسی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کا اعلان

کوئٹہ: مشیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے ویڈیو اسکینڈل سے متعلق کل اجلاس طلب کرتے ہوئے اسے بدنما داغ قرار دیا اور مغوی خواتین کی وطن واپسی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ویڈیواسکینڈل کے حوالے سے میر ضیا اللہ لانگو کل اجلاس کے بعد میڈیا کو پیشرفت سے متعلق بریفنگ دیں گے، جس کی تصدیق صوبائی وزیر داخلہ کے ترجمان نے کی ہے۔

مشیر داخلہ نے کہا کہ ویڈیواسکینڈل میں ملوث ملزمان کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور اُن کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، بدنامی کے اس داغ کو دھونے اور مٹانے کے لیے تمام ادارے دن رات کام کر رہے ہیں۔

میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ مغوی خواتین کی بازیابی اور انہیں وطن واپس لانےکیلئے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت اور اداروں پر اعتماد رکھیں۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ نازیبا ویڈیوز اسکینڈل : ایک اور متاثرہ لڑکی سامنے آگئی

یاد رہے کہ کوئٹہ میں خواتین کو ملازمت کا جھانسہ دے کر نازیبا حرکات کرنے اور اُن کی ویڈیوز بنانے کا اسکینڈل سامنے آیا تھا، جس کا مرکزی ملزم ہدایت خلجی نامی شخص کو قرار دیا گیا ہے۔

اب تک ہونے والی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نے خواتین کو ملازمت کا جھانسہ دے کر افغانستان بھیجا۔ اس سے قبل کوئٹہ میں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیواسکینڈل پر پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں لڑکیوں کی ماں کی شکایت پر ایف آئی آردرج کرلی، حالیہ وائرل ویڈیو سے پہلے ایف آئی آر اور گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

ایس ایس پی عبدالحق عمرانی کا کہنا تھا کہ پولیس اپنا کام کررہی ہے، فرانزک رپورٹ کا انتظارہے، ایک اور خاتون کی شکایت پر تیسرے ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ عبدالحق عمرانی نے بتایا ہے کہ ملزمان پراغوا، تحفظ خواتین بل، انسداد زیادتی قوانین کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ویڈیو اسکینڈل کے معاملے پر وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو نے مغوی خواتین کی بازیابی،ملزم کی گرفتاری کویقینی بنانے کی ہدایت کی اور  پولیس کو تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے احکامات دیے۔

یہ بھی پڑھیں: لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز کا اسکینڈل : ملوث ملزمان سے تحقیقات جاری

انہوں نے کہا کہ ماؤں بہنوں کی آبروسےکھیلنے والےکسی معافی کے مستحق نہیں ہیں،  خواتین کی بازیابی کےلئے افغان حکام سے رابطےمیں ہیں، متاثرہ خاندان مطمئن رہیں اب یہ ہماری جنگ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں