ریل کے ڈبے میں قائم منفرد اسکول غریبوں کے لیے امید railway school
The news is by your side.

Advertisement

ریل کے ڈبے میں قائم منفرد اسکول، غریبوں کے لیے امید

نیویارک: امریکی ریاست میکسیکو میں غریب بچوں کے لیے  ریل گاڑی کے خراب ڈبے میں قائم کیے جانے والے اسکول کو 41 برس مکمل ہوگئے، مستحق بچے بالکل مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں جہالت کے اندھیروں کو مٹانے اور علم کی شمع روشن کرنے کے لیے علم کا شعور اجاگر کیا جاتا ہے تاکہ وقتِ ضرورت ہے کہ تحت کوئی بھی بچہ زمانے سے پیچھے نہ رہ جائے۔

کسی بھی معاشرے کی تہذیب اور پہچان تعلیمی عمل کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بسنے والی علم دوست شخصیات اپنے طور پر معاشرے سدھارنے کے لیے کردار ادا کرتی ہیں۔

امریکی ریاست میکسیکو سٹی میں بھی ایک ایسا ہی شخص ہے جو گزشتہ 41 سال سے علم کی شمع کو روشن کرتے ہوئے بچوں کو بالکل مفت تعلیم دے رہا ہے۔

امریکا کی ریلوے کمپنی کے خراب ڈبے میں بنائے جانے والے فلاحی اسکول میں مایولو نامی استاد گزشتہ 41 سال سے درس و تدریس کا کام کررہے ہیں اُن کا ماننا ہے کہ تعلیم کا فروغ معاشرے میں سب سے زیادہ اہم اور بنیادی کام ہے۔

مایولو کہتے ہیں کہ اسکول میں وہ بچے زیر تعلیم ہیں جن کے والدین فیس ادا نہیں کرسکتے اس لیے نظام کو چلانے کے لیے عطیات جمع کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

ریل گاڑی کے ڈبے میں بنائے جانے والے اسکول میں 67 بچے زیر تعلیم ہیں جنہیں استاد کی جانب سے دوپہر کا کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے تاکہ طالب علم والدین پر بوجھ نہ بن سکیں۔

اسکول قائم کرنے کے حوالے سے مایولو کا کہنا ہے کہ ‘جب ریلوے کمپنی کی نجکاری ہورہی تھی تو اُس ڈبے کو خراب قرار دیتے ہوئے شہر میں کھڑا کردیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے ریلوے مزدورں کے بچوں کو تعلیم دینے کا تہیہ کیا‘۔

مایولو کا کہنا ہے کہ اب ان کی عمر زیادہ ہوگئی ہے اس لیے انہیں یہ خوف ہے کہ کہیں ریٹائر ہونے یا پھر دنیا سے جانے کے بعد علم تقسیم کرنے والی شمع بجھ نہ جائے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں