The news is by your side.

سندھ میں بارشوں سے تباہی جاری، مزید 11 جاں بحق

سندھ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے تباہی کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے چھتیں اور دیواریں گرنے سے مزید 11 افراد جاں بحق ہوگئے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سندھ میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، سکھر، لاڑکانہ، شکارپور، جیکب آباد، مونہجودڑو، ٹنڈو محمد خان سمیت دیگر اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جب کہ کل سے ایک اور مون سون بارشوں کا سسٹم سندھ میں داخل ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے اور اب تک درجنوں افراد اپنی قیمتی جانیں گنوا چکے ہیں۔ موہنجو دڑو میں چار روز میں ریکارڈ 529 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

شکارپور میں گزشتہ 6 روز سے جاری مسلسل بارش کے باعث نواحی گاؤں کی چھت گرگئی جس کے نتیجے میں ماں اور اس کے 5 بچے جاں بحق ہوگئے جب کہ باپ زخمی ہوگیا۔ کوئی ریسکیو ادارہ مدد کو نہ پہنچ سکا اور اہل علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبی لاشوں کو نکالا۔ رپورت کے مطابق حالیہ بارشوں میں ضلع بھر میں مختلف حادثات کے نتیجے میں 26 اموات ہوچکی ہیں۔

لاڑکانہ، موئن جودڑو اور گرد و نواح میں مسلسل بارش سے سیلابی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق چار روز میں موئن جو دڑو میں 529 اور لاڑکانہ میں 488 ملی میٹر بارش ہوچکی ہے۔ پیر اسماعیل گوٹھ میں چھت گرنے سے 2 بہنیں ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئیں جب کہ خاتون سمیت تین افراد زخمی ہوئے جنہیں چانڈکا اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ بارشوں کے دوران لاڑکانہ میں چھتیں گرنے کے واقعات میں اب تک 20 افراد جان سے جاچکے ہیں۔

جیکب آباد کے گاؤں جونگل پہّوڑ میں بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی۔ پولیس کے مطابق ملبے میں دب کر ایک ہی خاندان کے 3 بچے جاں بحق ہوگئے ہیں جب کہ ٹنڈو محمد خان کے ٹالپرٹاؤن میں سیلابی ریلا داخل ہوگیا ہے 300 گھر زیر آب آگئے اور رہائشی اپنے گھروں میں محصور ہوچکے ہیں۔ علاقے میں سیلابی صورتحال کے باعث کشتیاں چلنے لگی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں