The news is by your side.

Advertisement

تحریکِ‌ آزادی: مسلم لیگ کے لیے بے دریغ دولت خرچ کرنے والے راجا صاحب کا تذکرہ

راجا صاحب ہندوستان کی ریاست محمود آباد کے سلطان اور مسلمانوں کے ایسے خیرخواہ تھے جنھوں نے تحریکِ پاکستان اور آل انڈیا مسلم لیگ کے لیے گویا اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے اور خود کو قائدِ اعظم کا معتمد اور جاں نثار ثابت کیا۔

راجا صاحب نے محمود آباد مہا راجا سَر محمد علی خان کے گھر آنکھ کھولی۔ وہ 1914ء کو پیدا ہوئے اور 14 اکتوبر 1973ء کو انتقال کرگئے تھے۔

راجا صاحب کا اصل نام امیر احمد خان تھا۔ ان کا شمار تحریکِ پاکستان کے ان نام ور راہ نمائوں میں ہوتا ہے جو آزادی کی تحریک میں‌ ہر محاذ پر پیش پیش رہے اور ہر طرح کی قربانی دی۔ مال و دولت کی فراوانی اور ہر قسم کی آسائش میسر ہونے کے سبب ان کی اچھی تعلیم و تربیت ہوئی اور انھوں نے انگریزی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل کیا جب کہ اپنے عمدہ خصائل کی بدولت مسلمان قائدین میں ممتاز ہوئے اور محمد علی جناح کے رفیق و معتمد شمار کیے گئے۔

والد کے انتقال کے بعد راجا صاحب ریاست کے والی بن گئے اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاست میں فعال ہوئے۔ انھوں نے مسلم لیگ کو مضبوط کرنے کے لیے مالی امداد کی اور اپنے وسائل اور آمدن کو مسلمانوں اور ان کی تحریک کے راستے میں حائل مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے وقف کر دیا۔

راجا صاحب کو قائدِاعظم سے بڑی عقیدت تھی۔ آپ کے تعلق اور گہرے مراسم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ قائدِاعظم کو چچا اور محترمہ فاطمہ جناح کو پھوپھی کہا کرتے تھے۔

آپ مسلم لیگ کی مجلسِ عاملہ کے سب سے کم عمر رکن تھے۔ 1938ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے خازن منتخب ہوئے۔ قائداعظم نے آپ کو آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی صدارت کے لیے نام زد کیا اور آپ اسی سال آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے۔ اس وقت آپ کی عمر صرف چوبیس سال کی تھی۔

قائدِاعظم محمد علی جناح نے 1945ء میں مرکزی اسمبلی کے انتخابات کے موقع پر اپنے حلقۂ انتخاب کا انچارج راجا صاحب کو بنایا۔ راجا صاحب بھی مرکزی اسمبلی کی نشست کے امیدوار تھے لیکن انھوں نے اپنا حلقۂ انتخاب چھوڑ کر قائدِاعظم کی انتخابی مہم چلائی۔

1947ء میں راجا صاحب پاکستان چلے آئے اور یہاں کسی منصب اور رتبے کی تمنا کیے بغیر مسلمانوں کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔ عمر کے آخری حصے میں راجا صاحب برطانیہ منتقل ہوگئے تھے جہاں اسلامک ریسرچ سینٹر سے وابستہ ہوئے اور وہیں ان کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں