The news is by your side.

Advertisement

رینجرز کے خصوصی اختیارات کا معاملہ سست روی کا شکار

کراچی: تحفظِ پاکستان آرڈینینس کے تحت انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کی مدت پوری ہونے کے بعد رینجرز رینجرز کے دہشت گردوں کی نوے روز کی تحویل کے اختیارات ختم ہو گئے ہیں جس میں تاحال توسیع نہیں ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی ایکٹ میں تبدیلی کر کے 15 جون 2014 کو کراچی میں رینجرز کو خصوصی اختیارات دیے گئے تھے اور ایکٹ کی دفعہ 11 ڈبل ای ڈبل ای کے تحت کسی بھی مبینہ دہشت گرد کو 90 روزہ تحویل میں رکھنے کا اختیاردے دیا گیا تھا تاہم یہ خصوصی اختیارات کی مدت دو سال تھی۔

اختیارات ملتے ہی رینجرز نے کراچی میں بھرپور کارروائی کی اور سینکڑوں 6 ہزار سے زائد دہشت گردوں کو گرفتار کر کے 90 روزہ تحویل حاصل کی تھی جس میں 3452 افراد کو رہا کردیا گیاتھا جب کہ بقیہ کو پراسیکیوشن کے لیے پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا،جن کی تاحال عدالتوں میں سماعت جاری ہے۔

یاد رہے رینجرز کے خصوصی اختیارات میں انہیں پراسیکیوشن کا حق نہیں دیا گیا تھا،جس پر ایک کیس کی سماعت کے دوران رینجرز حکام نے یہ اختیار بھی مانگا تھا،رینجرز حکام کا کہنا تھ اکہ پولیس پراسیکیوشن درست سمت میں نہیں کر رہی ہے جس کے باعث نامی گرامی مجرم بھی بآسانی عدالت سے رہا ہوجاتا ہے،اس طرح سندھ رینجرز کی پوری محنت ضائع ہوجاتی ہے۔

تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے رینجرز کو پراسیکیوشن کا اختیار دینے کا فیصلہ تو نہیں کر پائی تھی کہ رینجرز کے خصوصی اختیارات کی مدت بھی ختم ہو گئی ہے لیکن اب تک رینجرز کے خصوصی اختیارات کی توسیع نہیں کی گئی ہے۔

سندھ حکومت پہلے ہی رینجرز کے اختیارات کے معاملہ پر پس و پیش سے کام لے رہی ہے اور اس معاملے پر وفاق سے سخت نالاں بھی ہے،یہاں تک کہ گزشتہ سال سندھ حکومت اور وزیر اعظم پاکستان کے درمیان رینجرز کے خصوصی اختیارات پر تصفیے کے لیے وفاق اور سندھ کی باقاعدہ نشست بھی اسلام آباد میں ہو چکی ہے۔

یاد رہے رینجرز نے ڈاکٹرعاصم ، ڈاکٹر نثار مورائی، عزیر بلوچ، عامر خان ، عبید کے ٹو، فیصل موٹا، منہاج قاضی، سلطان قمر صدیقی سمیت 6 ہزار سے زائد ملزموں کو 90 روز تحویل میں لے کر تفتیش کی لیکن اب رینجرز کے یہ خصوصی اختیارات 14 جون کی رات ختم ہو گئے رینجرز نے بھی 15 جون سے دہشت گردوں کو عدالت میں پیش کرنا بند کر دیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں