The news is by your side.

Advertisement

روس سے تعلقات پر امریکہ کا بھارت کو انتباہ

انڈیا اور روس کے درمیان تعلقات کی گرم جوشی پر امریکہ نے اپنے اتحادی ملک بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ ماسکو پر انحصار نہیں کرسکتا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ نے انڈیا کو ایسے موقع پر متنبہ کیا ہے کہ جب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سرکاری دورے پر انڈیا میں ہیں۔

اس دوران وہ مودی حکومت کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ مغربی ممالک کے دباؤ میں آکر یوکرین جنگ کی مذمت نہ کریں۔

خیال رہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف اقوام متحدہ میں پیش ہونے والی قرارداد پر ووٹنگ سے انڈیا نے گریز کیا تھا۔ علاوہ ازیں جنگ کے بعد سفارتی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال کے باوجود بھارت روس سے تیل خرید رہا ہے۔

دوسری جانب ایشیائی پیسیفک خطے میں چین کے جارحانہ اقدامات پر بھارت کئی مرتبہ اپنے خدشات کا اظہار کرچکا ہے۔ سال 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تنازعے میں بھارت کے 20 جبکہ چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق امریکہ میں بین الاقوامی اقتصادیات کے نائب مشیر دلیپ سنگھ نے اپنے حالیہ دورہ بھارت کے دوران کہا کہ اگر ایک اور تنازع پیدا ہوا تو روس پر بھارت انحصار نہیں کرسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات میں روس ایک جونیئر پارٹنر ہوگا اور جتنی زیادہ روس کو چین پر برتری حاصل ہوگی، یہ اتنا ہی زیادہ بھارت کے لیے کم سے کم سازگار ہوگا۔

دلیپ سنگھ نے مزید کہا کہ اگر چین نے ایک مرتبہ پھر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی خلاف ورزی کی تو ان کا نہیں خیال کہ روس دوبارہ بھارت کے دفاع کے لیے بھاگتا ہوا آئے گا۔

خیال رہے کہ دیگر چند ممالک کی طرح چین نے بھی روس کے حالیہ اقدامات کی مذمت نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ روس نے چین کے ساتھ شراکت داری کو لا محدود قرار دیا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف چین کے سرکاری دورے کے بعد جمعرات کو انڈیا پہنچے تھے جہاں ان کی ملاقات وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ بھی متوقع ہے۔

روس پر عائد معاشی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے انڈیا اور ماسکو کی کوشش ہے کہ تجارت میں آسانی پیدا کرنے کی غرض سے روسی روبل اور انڈین روپے میں لین دین کا کوئی طریقہ نکالا جائے۔

دلیپ سنگھ نے کہا کہ انڈیا کی توانائی کی ضروریات اور دفائی سازوسامان کی دستیابی میں امریکہ مدد فراہم کرسکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ روس پر عائد معاشی پابندیاں کو نظرانداز کرنے والے ممالک کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں