The news is by your side.

Advertisement

“خوشیوں کا باغ” کا مصنف ایک یاد ہوا، ممتاز فکشن نگار انور سجاد انتقال کر گئے

اردو کا منفرد  تخلیق کار رخصت ہوا، ایک  عہد تمام ہوا، آدمی چلا گیا، اب صرف کہانی باقی ہے۔

بیماری سے جوجھتے، سماج سے نالاں  اردو کے ممتاز فکشن نگار، ڈراما نویس، مصور، رقاص، صدا کار، انور سجاد جہان فانی سے کوچ کر گئے.

یہ سانحہ لاہور میں پیش آیا، وہ ہی شہر جہاں تقسیم سے قبل اس انوکھے کلاکار نے آنکھ کھولی تھی۔  ڈاکٹر انور سجاد گزشتہ چند برس سے علیل اور شدید کسمپرسی کا شکار تھے۔

کلاکار کی ادب کہانی

انور سجاد اردو افسانے میں ایک رجحان کا نام ہے. انھوں نے کہانی کے روایتی اسلوب اور سانچے کو شعور ی طور پر توڑ کر اپنے عصر کی پیچیدہ صورت حال کے اظہار کے لیے نئے وسائل، نئے استعارے تراشے، ان کا منفرد اسلوب اور تجریدی تجربات ابتدا ہی سے زیر بحث رہے.

ان کے افسانوی مجموعے “چوراہا”، “استعارے”، “آج” اور “پہلی کہانیاں” کے زیر عنوان شایع ہوئے. تین ناولز “رگ سنگ”، خوشیوں کا باغ” اور جنم روپ”۔ انھوں نے اردو ادب کو دیے. یوں تو ہر تخلیق اہم، البتہ خوشیوں کا باغ خصوصی طور  پر زیر بحث آیا۔

انجمن ترقی پسند مصنفین سے ان کی گہری وابستگی رہی. “آرٹسٹ ایکویٹی” نامی ایک تنظیم بھی بنائی. حلقہ ارباب ذوق، لاہور کے عہدے دار رہے. پاکستان آرٹس کونسل، لاہور کے چیئرمین بھی رہے.

اوائل میں شاعری بھی کی، مگر کلی طور پر فکشن کی سمت آگئے. پہلا افسانہ ’’ہوا کے دوش‘‘ پر نقوش میں شایع ہوا.

پرفارمنگ آرٹ ابتدا ہی سے دل چسپی کا محور تھا. ڈراما نگاری کا سفر پی ٹی وی سے شروع ہوا. “رات کا پچھلا پہر”، “پک نک”، “کوئل”، صبا اور سمندر”، ــیہ زمین میری ہے‘‘، ’’روشنی روشنی‘‘ اور ’’جنم دن‘‘ سمیت کئی کام یاب کھیل لکھے. کئی ڈراموں اداکاری بھی کی.

واجد علی شاہ کا کردار نبھانے کے لیے مہاراج غلام حسین کتھک سے رقص سیکھا.

دوستوں کے حلقے اور رنگوں میں دل چسپی مصوری کی جانب لائی. ان کے فن پارے تاثراتی اور تجریدی رنگوں‌ سے مزین ہوتیں.

فکشن نگار کار کی کہانی اور سیاست

ڈاکٹر انور سجاد 27مئی 1935میں‌لاہور کے علاقے چونا منڈی میں پیدا ہوئے، ان کے والد ڈاکٹر سید دلاور علی شاہ اپنے شعبے کی معروف شخصیت تھے.

سن 1948 میں انھوں نے میٹرک کیا، گورنمنٹ کالج اور ایف سی کالج میں زیر تعلیم رہے۔ کنگ ایڈورڈ کالج، لاہور سے طب کی تعلیم مکمل کی۔ 1964میں لیورپول یونیورسٹی، انگلینڈ سے ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ کی ڈگری لی.

سن 2002 تک اپنا کلینک چلاتے رہے. اسی دوران ڈراما نگاری بھی کی۔  پھر کراچی میں‌ ایک ٹی وی چینل میں‌ اسکرپٹ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہوگئے اور وہیں سے بیماری کے باعث الگ ہوئے.

سیاست ابتداسے ان کی دل چسپی کا محور تھا. طلبا سیاست کے زمانے میں جھکاؤ لیفٹ کی جانب تھا. لیفٹ کو مرکزی دھارے میں‌ لانے کے ارادے سے عملی سیاست میں آئے.

ان کا شمار پیپلز پارٹی کے بانی ارکار میں‌ہوتا ہے. پارٹی انھیں الیکشن کا ٹکٹ دینا چاہتی تھی، مگر یہ انھیں منظور نہیں تھا. ان کی نظریاتی سوچ کے باعث اختلافات بھی پیدا ہوئے.

مارشل لا کے نفاذ کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا. بعد میں‌ بھی احتجاجی سرگرمیوں‌ میں حصہ لیا، مگر پیپلز پارٹی کے مزاج کی تبدیلی سے خود کو ہم آہنگ نہیں کرسکے اور کنارہ کش ہوگئے.

ایک بار عمران خان کی درخواست پر پی ٹی آئی کے ایک جلسے میں بھی شرکت کی، مگر عملی سیاست سے دور رہے.

آخر دنوں کا غم ناک تذکرہ

انور سجاد صاحب گزشتہ کچھ عرصے سے بیمار تھے. وہ ان اداروں اور افراد سے بھی شاکی تھے، جن کے ساتھ انھوں نے کام کیا.

حالات سے مجبور کر انھوں نے امداد کی اپیل بھی کی. حکومت پنجاب کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ان کی داد رسی کی گئی ہے، مگر بعد میں اس ضمن میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں