The news is by your side.

Advertisement

سائنسی تاریخ میں‌ پہلی بار سورج کی قریب ترین شفاف تصاویر سامنے آگئیں

واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے سورج کی نئی تصاویر جاری کردیں جسے اب تک کی شفاف ترین تصاویر قرار دیا گیا ہے۔

ناسا اور یونیورسٹی آف سینٹرل لان کیش ائیر نے مذکورہ تصاویر طاقت ور ترین ٹیلی اسکوپ کی مدد سے حاصل کیں، سورج کی تصاویر لینے کا عمل کئی روز تک جاری رہا۔

ماہرین نے سورج اور اس کے ارد گرد کے حالات کی تصاویر بھی لیں جو سائسنسی تاریخ میں پہلا کاررنامہ ہے۔

تصاویرکے نتائج دیکھ کر ماہرین نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ سورج کے ارد گرد موجود سیاہ حصہ خالی نظر آرہا ہے اس میں الیکٹرویفائیڈ گیسز موجود ہیں جو 311 مائلز کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں: سورج کے ابلتے حصے کی نزدیک ترین تصاویر اور ویڈیوز سامنے آگئیں

ماہرین کے مطابق سورج کا درجہ حرارت 18 لاکھ سینٹی گریڈ فارن ہائیڈ ہے، اس کے حجم  لندن اور شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت کے درمیانی حصے کے برابر بنتا ہے۔

The images revealed the Sun´s atmosphere is made up of strands of electrical gas at extreme temperatures. The ultra-fine strands can be seen clearly in the box in the top right

ناسا کے مطابق مذکورہ تصاویر ہائی سی ٹیلی اسکوپ کی مدد سے لی گئیں، ٹیلی اسکوپ میں سورج کا ماحول اپنے حجم سے 43 مائلز کم نظر آیا جبکہ ستارے کے مقابلے میں یہ 0.01 فیصد اضافی تھا۔

While the strands look like human hairs, they are incredibly hot - reaching more than one million degrees celsius - and are each 311 miles wide

یہ بھی پڑھیں: ناسا نے سورج کی نزدیک ترین تصویر جاری کردی

ماہرین نےسورج کے سیاہ حصے کی تصاویر بنانے کی کوشش کی۔ ناسا کے مطابق سورج کا سیاہ حصے میں گرم مادہ موجود ہے اور یہ روشنی والے حصے سے لاکھوں گنا زیادہ گرم ہے۔

Each single strand of hot plasma is about 311 miles wide - roughly the distance from London to Belfast with just a small area of strands matching the total size of the Earth

The discovery provides astronomers with a better understanding of the Sun's complex atmosphere and could help predict solar flares and storms

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں