The news is by your side.

Advertisement

طاقت ور ترین سورج گرہن، پاکستان میں بھی آج دن کے وقت اندھیرا ہوگا

 

کراچی: رواں سال کے دوسرے سورج گرہن کا نظارہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں دیکھا جائے گا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان کے بیشتر  اور بالخصوص سمندری علاقوں میں سورج گرہن کی وجہ سے دن کے وقت رات کا سماں ہوجائے گا یہ گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ گہرا ہوگا۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ جزوی سورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح نو بج کر چھبیس منٹ پر ہوگا جبکہ 10 بج کر59منٹ پر گرہن نقطہ عروج ہوگا اور 12 بج کر 46منٹ پر ختم ہوگا، اس کا دورانیہ 3 گھنٹہ 2 منٹ رہے گا ۔

ماہرین کے مطابق دن کے وقت میں اندھیرا ہوجائے گا کیونکہ چاند سورج کے بالکل آگے آجائے گا جس کی وجہ سے اُس کی روشنی کم پڑ جائے گی۔ رواں سال سورج گرہن کو رنگ آف فائرکا نام دیاگیا ہے جسے گزشتہ دس سال کا سب سے طاقتور ترین قرار دیا جارہا ہے۔

ماہر ین فلکیات کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گوادر سے سکھر تک کے مختلف علاقوں میں سورج کے گرد روشنی کا ہالہ یعنی رنگ آف فائر دیکھا جاسکے گا۔

مزید پڑھیں: سورج گرہن کا براہ راست نظارہ، بچوں‌ سمیت 15 افراد بینائی سے محروم

ماہرین فلکیات نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ گرہن لگنے کے دوران سورج کا براہ راست نظارہ نہ کریں کیو نکہ اس سے آنکھوں کی بینائی متاثر ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سورج گرہن اس سے قبل دسمبر2019 میں 79سے80 فیصد دیکھا گیا تھا جبکہ اس بار 91 فیصد تک سورج کو گرہن لگ سکتا ہے

دوسری جانب ماہرین امراض چشم نے 21 جون کو ہونے والے سورج گرہن کو انسانی آنکھوں کے لیے خطرناک قرار دے دیا ہے۔ ماہرین فلکیات نے بھی 21 جون کو ہونے والے سورج گرہن کو طاقت ور ترین قرار دیا ہے۔

کیا سورج گرہن دیکھنے سے انسان اندھا ہوجاتا ہے؟

سائنس کے مطابق جب سورج کی سطح کا 99 فیصد  چھپ جاتا ہے ، تو 1 فیصد  رہ جانے والا  ریٹنا  کے آنکھ کے خلیوں کو نقصان پہنچانے کے لئے کافی  ہوتا ہے۔ جیسے ہی  یہ  روشنی  اور  تابکاری آنکھ پر پڑتی ہے تو  ریٹنا  کے  ٹشوز جھلس جاتے  ہیں۔

ماہرین کے مطابق سورج گرہن کا نظارہ براہ راست دیکھنے والوں کی آنکھیں خراب ہوجانے کے امکانات  بڑھ  جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے بینائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

اس سارے عمل کو  سولر ریٹینا پیتھی کہتے  ہیں۔  سولر  ریٹینا پیتھی میں‌ روشنی کو محسوس کرنے  والے خلیے  میں‌ سے  ایسے کیمیکل  نکلتے  ہیں جو  ریٹینا کو نقصان پہنچاتے ہیں۔  چونکہ  یہ عمل  تکلیف دہ نہیں‌ اس لئے  نظر خراب  ہونے  کا  احساس نہیں  ہوتا۔

سورج گرہن کے نقصانات

سورج گرہن کا سب خطرہ آنکھوں کو ہوتا ہے کیونکہ گرہن لگنے کے دوران سورج سےانفراریڈ، الٹراوائیلٹ نامی سرخ شعاعیں نکلتی ہیں جو انسانی آنکھ کو بہت زیادہ متاثر کرتی اور اس سے قرنیہ ہمیشہ کے لیے متاثر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: سورج گرہن کن علاقوں میں دیکھا جا سکے گا

سورج گرہن کے دوران شعاعیں آپ کے قرنیہ اور ریٹنا کو جلا سکتی یا بھاپ پیدا کرسکتی ہیں جس سے انکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سورج گرہن کو دیکھا جاسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق جب تقریبا مکمل سورج گرہن ہو یا اندھیرا ہوجائے تو آپ تھوڑی دیر کے لئے سورج کو دیکھ سکتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر

کمسن اور شیر خوار بچوں کو کمروں میں رکھیں

گھر سے بلا ضرورت باہر نہ نکلیں اور مجبوری کی حالت میں کوئی سن گلاسز، گاگلز لگائیں تاکہ شعاعوں سے محفوظ رہ سکیں

سورج گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے بغیر فلٹر کے دوربین ہرگز استعمال نہ کریں۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سورج گرہن کو فلٹر والے چشمے سے ہی دیکھیں اور تصاویر بنانے کے لیے زیادہ پکسل والا کیمرہ استعمال کریں۔

شرعی حکم 

صحیح بخاری میں حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے سورج گرہن کے وقت نماز کسوف ادا کرنے کا حکم دیا اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔

بخاری: (1059) اور مسلم:  (912) میں ابو موسی رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ : “ایک بار سورج گرہن ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  گھبرا کر کھڑے ہوئے کہیں قیامت قائم نہ ہو گئی ہو! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور خوب لمبے قیام، رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز  پڑھائی، میں نے اس سے پہلے آپ کو کبھی اتنی لمبی نماز پڑھاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: (اللہ تعالی کی طرف سے ارسال کردہ یہ نشانیاں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے رونما نہیں ہوتیں، البتہ اللہ تعالی ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، چنانچہ اگر تمہیں اس قسم کی کوئی نشانی نظر آئے تو فوری طور پر ذکر الہی، دعا اور استغفار میں مگن ہو جاؤ)”

نماز کسوف

نماز کسوف باجماعت ادا کی جاتی ہے، جس میں دو رکعات ہوتی ہیں اور یہ سورج گرہن شروع ہونے سے اختتام تک جاری رہتی ہے، اس میں قیام ، رکوع ، سجود اور دیگر اراکان کو طویل کرنے کا حکم دیا گیا۔

 مسلم:  (911)- سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیشک سورج اور چاند اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، اللہ تعالی ان دونوں کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اور یقینی بات ہے کہ یہ دونوں کسی شخص کی موت  پر گرہن نہیں ہوتے، چنانچہ جب بھی تم ان میں سے کسی کو گرہن لگتا ہوا دیکھو تو اتنی لمبی نماز پڑھو اور اللہ تعالی سے دعا کرو یہاں تک کہ تم اپنی معتدل حالت میں آ جاؤ‘‘۔

نماز کسوف کا طریقہ

نماز کسوف کے اس طریقے کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح بخاری: (1046) اور مسلم: (2129) میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ’’ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد چلے گئے اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں بنا لیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور پھر لمبی قرأت فرمائی، پھر آپ نے تکبیر کہہ کر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے ” سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ۔۔۔” کہا اور کھڑے رہے سجدہ نہیں کیا ، پھر آپ نے دوبارہ لمبی قرأت فرمائی لیکن یہ پہلی قرأت سے قدرے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ تکبیر کہتے ہوئے لمبا رکوع کیا تاہم یہ پہلے رکوع سے کم لمبا تھا۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ” کہا ۔

پھر آپ ﷺ سجدے میں چلے گئے اور پھر دوسری رکعت بھی بعینہٖ اسی انداز سے پڑھائی۔

اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے [دو رکعت نماز میں] چار رکوع اور چار سجدے فرمائے “

نماز کسوف کی باجماعت ادائیگی

امام کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں جن میں بہت لمبی قرأت ہو اور ہر رکعت میں رکوع سجدے بھی خوب دیر تک ہوں، دو رکعتیں پڑھ کر قبلہ رُو بیٹھے رہیں اور سورج صاف ہونے تک اللہ تعالیٰ سے عافیت اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے رہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں