The news is by your side.

ایران میں پولیس حراست میں لڑکی کی موت پر ہنگامے پھوٹ پڑے، 8 افراد ہلاک

ایران میں پولیس حراست میں لڑکی کی ہلاکت کے معاملے پر دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ایران میں پولیس کی حراست میں 22 سالہ کرد لڑکی مہسا امینی کی ہلاکت پر تہران، مشہد، شیراز سمیت دیگر کئی شہروں میں احتجاجی مظاہروں میں شدت آگئی ہے اور پولیس اہلکار سمیت 8 افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔

مظاہرین نے مختلف شہروں میں جلاؤ گھیراؤ کیا اور سڑکیں بلاک کردیں، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، سکییورٹی فورسز کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاﺅن میں 15 افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔

دوسری جانب مظاہرین کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے سخت کریک ڈاؤن بھی کیا، پولیس کریک ڈاؤن اور عوامی ردعمل کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 8 افراد اب تک ان ہنگاموں کی نذر ہوچکے ہیں۔

ایرانی حکام نے ملک میں بڑھتی بدامنی کا ذمے دار بعض غیر ملکی سفارتخانوں اور بیرونی اداروں کو قرار دیا ہے، جب کہ مہسا امینی کی پولیس کی حراست میں ہلاکت پر کینیڈا، ایمسٹرڈیم، برلن اور استنبول میں بھی احتجاج کیا گیا ہے اور ریلیاں نکال گئی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے تہران میں اسکارف نہ پہننے پر مہسا امینی کو حراست میں لیا گیا تھا، حراست کے دوران مہسا امینی مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنےکے باعث انتقال کرگئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں