The news is by your side.

Advertisement

پولیس کی کم نفری برطانیہ میں پرتشدد واقعات میں اضافے کا باعث ہے: وزیر داخلہ

لندن: برطانوی حکام کی ایک دستاویز کے مطابق لندن میں رواں سال رونما ہونے والی فائرنگ اور چاقو زنی کی متعدد وارداتوں اور جرائم کی شرح میں اضافے کا باعث پولیس نفری میں کمی کی وجہ ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق برطانوی محکمہ داخلہ کی ایک لیک ہونے والی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پولیس افسران کی تعداد میں کمی پرتشدد واقعات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں رواں سال کے اوائل سے اب تک فائرنگ اور چاقو زنی کی متعدد وارداتوں میں 50 سے زائد شہریوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

لیک شدہ دستاویز کے مطابق برطانوی وزارت داخلہ کو سیکیورٹی کے سلسلے میں نئے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

دوسری جانب حکام نے مذکورہ دستاویز کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کرتے ہوئے اس امکان کی تردید کی ہے کہ پولیس نفری میں کمی پرتشدد واقعات میں اضافے کا سبب ہے۔

دستاویز میں کہا گیا کہ برطانیہ میں بڑھتی ہوئی جنسی زیادتی کے واقعات اور دیگر جرائم کے پیش نظر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھای گئی، تاہم وسائل میں کمی اور مجرموں پر لگائی جانے والی دفعات میں نرمی کے باعث سیکیورٹی عملہ شدید دباؤ کا شکار ہوگیا، جو شرپسند عناصر کے حوصلوں میں اضافے کی وجہ بن رہا ہے۔

سیکریٹری داخلہ امبر رڈ نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے ثابت ہو کہ پولیس کی نفری میں کمی پرتشدد واقعات اور جرائم میں اضافے کا سبب بن رہی ہو۔


لندن:فائرنگ اور چاقو زنی کے پیش نظر اضافی نفری تعینات


خیال رہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 17 سالہ لڑکی تانیشا اور 16 سالہ امان شکور کو فائرنگ کرکے ہلاک کرکے کردیا گیا تھا، جس کے الزام میں پولیس نے 30 سالہ شخص کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ 16 مارچ کو برطانیہ میں خواتین گینگ کے سرعام تشدد سے شدید زخمی ہونے والی مسلمان طالبہ مریم مصطفیٰ جان کی بازی ہار گئی تھی۔ جبکہ ایک اور حملے میں 20 سالہ نوجوان کو چاقو کے وار سے قتل کردیا گیا تھا۔

دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے دارالحکومت لندن نے جرائم کی شرح میں امریکی شہر نیویارک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، برطانوی میڈیا کے مطابق نوجوان گینگ کلچر کا شکار ہورہے ہیں جس کے باعث لندن میں رواں سال چاقو زنی کی وارداتوں میں اب تک 50 افراد قتل ہوچکے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں