site
stats
صحت

بدلتے موسم میں متعدد امراض کے پھیلاؤ کا خدشہ

ملک بھر میں مون سون کا موسم جاری ہے۔ مختلف شہروں میں ہلکی یا تیز بارشیں ہورہی ہیں اور محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس موسم میں بے شمار وبائی امراض کے پھیلنے کا بھی خدشہ ہے۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے طبی ماہرین نے متعلقہ اداروں کو تجویز دی ہے کہ وہ ایسے موسم میں پانی اور خوراک کو زہریلا ہونے سے بچانے اور صحت و صفائی کے خصوصی اقدامات کریں بصورت دیگر اچانک کئی وبائی امراض پھیل سکتے ہیں جو ایک سے دوسرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

ماہرین نے ان امراض میں پیٹ کی بیماریوں، بخار اور ہیپاٹائٹس کو شامل کیا ہے۔

ان کے مطابق ان بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں بارشیں معمول سے زیادہ ہونے کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی اور اب جگہ جگہ پانی کھڑا ہے۔

ماہرین نے زور دیا کہ اس وقت ضلعی سطح پر صحت کی ٹیموں کو فعال کیا جائے تاکہ کسی بھی مرض کو فوراً پکڑا جا سکے اور اسے جان لیوا ہونے سے بچایا جاسکے۔

ان کے مطابق متعلقہ اداروں کو ادویات کا وافر اسٹاک رکھنے کی ضرورت ہے جن میں اینٹی بائیوٹکس، اینٹی ٹیٹنس، کتے اور سانپ سے کاٹے کی ادویات اور ٹائیفائڈ سے حفاظت کی ویکسینز اور علاج کی ادویات شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: بارش کے موسم میں بچوں کو ڈائریا سے بچائیں

انہوں نے تجویز دی کہ ضلعی ٹیمیں ڈائریا کے پھیلاؤ کے حوالے سے خاص طور پر محتاط رہیں اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے تحت کسی علاقے کے فراہمی آب کے ذرائع کی باقاعدگی سے جانچ پڑتال کی جاسکے۔

گندے علاقے زیادہ خطرے میں

ماہرین نے واضح کیا کہ سیلاب زدہ علاقوں کے علاوہ ایسے علاقے بھی شدید خطرے کا شکار ہیں جہاں جا بجا کچرے کے ڈھیر ہوں اور سیوریج کی صورتحال ناقص ہو۔

ان کے مطابق ایسے علاقوں میں مختلف کیڑوں کی افزائش ہوسکتی ہے جو کئی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں ایسے علاقوں میں پینے کا پانی اور خوراک (دکانوں پر ملنے والی غذائی اشیا) آلودہ اور زہریلی ہوسکتی ہیں جو جان لیوا بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top