ہائیکورٹ نے رائل پام کی انتظامیہ کوعبوری قبضہ دے دیا -
The news is by your side.

Advertisement

ہائیکورٹ نے رائل پام کی انتظامیہ کوعبوری قبضہ دے دیا

لاہور: ہائی کورٹ نے رائل پام کنٹری کلب انتظامیہ کو عبوری طور پر کلب کے معاملات چلانے کی اجازت دیتے ہوئے مالی مسائل کے حل کے لیے تین رکنی فنانس کمیٹی قائم کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزجسٹس شمس محمودمرزا نےرائل پام انتطامیہ کی جانب سے کلب پر قبضے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔

رائل پام کے وکیل علی ظفر نے عدالت کو بتایا گیا کہ رائل پام اور ریلوے کے درمیان 49 سالہ لیز ہے جس کے تمام ترقانون تقاضے پورے کیے گئے ہیں جبکہ قانون کے مطابق ادائیگیاں بھی کی جا رہی ہیں۔

ریلوے کی جانب سے غیرقانونی اقدامات کو روکنے کے لیے رائل پام انتظامیہ نے عدالت سے رجوع کیا جس پر سول کورٹ نے حکم امتناعی جاری کر دیا تاہم اس کے باوجود ریلوے حکام نے کارروائی کر کے رائل پام پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر لیا۔جس کی وجہ سے ہزاروں ممبران مشکلات کا شکار ہیں جبکہ کلب کے ملازمین کا روزگار بھی داو پر لگ گیا ہے ۔ لہذا عدالت فوری طور پر قبضہ ختم کر کے کلب انتظامیہ کے حوالے کرے۔

ریلوے کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ واجبات کی عدم ادائیگی اورمعاہدے کی خلاف ورزی پرکلب سیل کیا گیا تاہم جلد ہی ممبران کومعمول کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی اورملازمین کو تنخواہیں دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا جا رہا ہے۔

عدالت نےوکلا کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ رائل پام پرریلوے کے قبضے کی قانونی حیثیت کے متعلق بعد میں حکم جاری کیا جائے گا تاہم عبوری طور پر کلب انتظامیہ تمام معاملات سنبھالے اور ریلوے اس میں مداخلت نہ کرے جبکہ مالی معاملات کے لیے ریلوے اور رائل کلب کے نمائندوں اور چارٹرڈ اکاونٹنٹ پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے ۔ عدالت نے ریلوے اورخواجہ سعد رفیق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے یکم ستمبر کو جواب طلب کر لیا ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں