The news is by your side.

Advertisement

مدرسے میں تشدد کی وائرل ویڈیودبئی کی نہیں، حکام

دبئی: متحدہ عرب امارات کے متعلقہ ادارے نے مدرسے کے طالب علم پر تشدد کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کی تردید کردی۔

تفصیلات کے مطابق دبئی کے اسلامک افیئرز اور فلاحی سرگرمیوں کے محکمے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم سوشل میڈیا پر گردش کرتی افواہوں کو رد کرتے ہیں، مدرسے میں قرآن کے طالب علم پراستاد کے تشدد کی ویڈیو کا دبئی سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔

جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ دبئی کے کسی بھی مدرسے میں پیش نہیں آیا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ ویڈیو کئی سال پرانی ہے اور پہلے بھی کئی بار سوشل میڈیا پر شیئر ہوچکی ہے ۔

 

View this post on Instagram

 

دائرة الشؤون الإسلامية والعمل الخيري بدبي تنفي ما يتم تداوله في وسائل التواصل الإجتماعي عن واقعة الضرب لأحد طلاب مراكز التحفيظ في إمارة دبي، وتأكد بأنّ هذه الواقعة لم تحصل في دبي، وأنها تم تداولها أكثر من مرة في وسائل التواصل، وهي منتشرة منذ عدة سنوات في مواقع الانترنت الأخرى. ‏كما أنّ الدائرة من خلال حرصها على المراكز وطلابها، وعملها الإشرافي والميداني الذي يقع ضمن مهامها؛ ملتزمة بالرقابة على جميع المساجد ومنتسبيها، ومراكز التحفيظ في إمارة دبي، ورعاية طلابها والإشراف على مدرسيها في ضوء الضوابط والمواصفات المحلية والعالمية المتعلقة بإقامة المراكز واستدامتها على أرقى المستويات.

A post shared by إسلامية دبي (@iacaddubai) on

اسلامک افیئرز اور فلاحی سرگرمیوں کے محکمے کا کہنا تھا کہ ان کے زیر اہتمام تمام مذہبی سنٹر ز، مساجد اور مدارس کے اساتذہ، طلبہ اور عبادت گزاروں کے لیے انتہائی سخت قواعد وضوابط نافذ ہیں۔ انہی قواعد کے تحت مذہبی معلمین کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ ہے کہ اگر وہ مقامی اور عالمی تدریسی اصولوں کی خلاف ورزی کریں گے تو انکے خلاف انتہائی سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ اماراتی شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بچہ بندھے ہاتھوں مسجد میں بھاگتا ہے تو استاد اس کا پیچھا کرتا ہے جبکہ باقی طالب علم موقع پر کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کہا جارہا تھا کہ یہ دبئی کے کسی مدرسے کی ویڈیو ہے۔

خیا ل رہے کہ متحدہ عرب امارات میں ’جعلی اور من گھڑت خبریں‘ پھیلانے کو خلاف قانون جرم تصور کیا جاتا ہے اور قانون میں اس کے لیے قید اور جرمانے دونوں کی سزائیں موجود ہیں۔ جرمانے کی حد زیادہ سے زیادہ دس لاکھ درہم بھی ہوسکتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں