The news is by your side.

Advertisement

روس نے گیس کیلیے یورپ پر نئی شرط عائد کر دی

روس نے واضح کیا ہے کہ روبل میں ادائیگی نہ کرنے والے یورپی ممالک کو مفت یا خیرات میں گیس فراہم نہیں کی جائے گی۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین کے ممالک روبل میں گیس کی ادائیگی سے انکار کرتے ہیں تو ماسکو کا خیراتی کاموں میں مشغول ہونے اور یورپ کو مفت گیس فراہم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

کریملن ترجمان نے کہا کہ اگر روبل میں کوئی ادائیگی نہیں کرے گا تو گوئی گیس نہیں ملے گی ہم یقینی طور پر گیس یورپ کو خیرات نہیں کریں گے اور مغربی یورپ کو گیس مفت نہیں دی جائے گی۔

روسی صدر نے 23 مارچ کو غیردوست ممالک کو روسی گیس کی سپلائی کے لیے روبل میں چارج کرنے کی ہدایات دی ہیں اور غیردوست ممالک پر واضح کیا ہے کہ 31 مارچ سے گیس کی ادائیگی صرف روبل میں وصول کی جائے گی۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک حکم نامے پر دستخط کر کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے بیرونی قرضے ملکی کرنسی روبل میں ادا کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، اس کے مطابق بیرونی قرض دہندگان کو عارضی طور پر قرضوں کی ادائیگی غیر ملکی کرنسی کے بجائے روبل سے کی جا سکے گی، اور اس اقدام کا مقصد قرضے واپس نہ کرسکنے یعنی نادہندہ ہونے سے بچنا ہے۔

روسی حکومت نے غیر ملکی ریاستوں اور خطوں کی ایک فہرست کی منظوری دی ہے، جس میں ان ممالک کو رکھا گیا ہے جو روس، اس کی کمپنیوں اور شہریوں کے خلاف غیر دوستانہ کارروائیاں کرتے ہیں۔

فہرست میں امریکا، کینیڈا، یورپی یونین کی ریاستیں، برطانیہ (بشمول جرسی، انگویلا، برٹش ورجن آئی لینڈ، جبرالٹر)، یوکرین، مونٹی نیگرو، سوئٹزرلینڈ، البانیہ، اندورا، آئس لینڈ، لیچٹنسٹائن، موناکو، ناروے شامل ہیں۔

اس فہرست میں سان مارینو، شمالی مقدونیہ، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، مائیکرونیشیا، نیوزی لینڈ، سنگاپور، اور تائیوان کو بھی جو کہ (چین کا علاقہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن 1949 سے اس کی اپنی انتظامیہ کے زیر انتظام ہے) شامل کیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں