The news is by your side.

Advertisement

ترکی: روسی سفیر دوران خطاب فائرنگ سے ہلاک

انقرہ: ترکی میں روسی سفیر آندرے کارلوف پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی جس کے باعث وہ شدید زخمی ہوگئے اور انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔

ترک میڈیا کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ ترکی کے دار الحکومت انقرہ میں پیش آیا جہاں وہ ایک تقریب میں خطاب کررہے تھے کہ ان پر عقب سے فائرنگ کی گئی جو ان کے لیے آخری خطاب کا باعث بن گئی۔

خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس نے حملہ آور پر جوابی فائرنگ کی جس کے نیتجے میں وہ ہلاک ہوگیا،حملے کے نیتجے میں 3 دیگر افراد کے بھی زخمی ہونے کی اطلاع ہے،حملہ آور نے فائرنگ کرنے سے قبل حلب میں ہلاکتوں کا بدلہ لینے کا نعرہ بلند کیا۔

اطلاعات کے مطابق روسی سفیر کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

ترکی کے وزیر داخلہ نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم جاری کیا۔

russia-post-1

خبر رساں ادارے کے مطابق حملہ آور ترک پولیس فورس کا اہلکار تھا تاہم وہ روسی سفیر کی ڈیوٹی پر تعینات نہیں تھا، حملہ آور پولیس کارڈ کے ذریعے عمارت میں داخل ہوا جہاں تصاویری نمائش ہورہی تھی اور دوران خطاب اس نے روسی سفیر کو نشانہ بنایا بعدازاں پولیس کی فائرنگ سے مارا گیا۔

روسی میڈیا کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے سفیر پر حملے کو دہشت گردی کی واردات قرار دیا ہے،واقعے کے بعد روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا جب کہ ترک صدر رجب طیب اردگان نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو فون کیا اور روسی سفیر کے مارے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ شام میں روسی افواج کی کارروائیوں کے بعد گزشتہ کئی روز سے ترک میں روسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جب کہ سفیر کو روس، شام، ایران، ترک وزرائے خارجہ کے اجلاس سے ایک دن قبل مار ا گیا، کل روس، شام، ایران، ترک وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہونا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے بھی روسی سفیر کے قتل کی مذمت کی گئی ہے جب کہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان جان کربی نے واقعے پر اظہار مذمت کیا ہے ساتھ ہی امریکا نے اپنے شہریوں کو جائے وقوع سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی اور روس کے تعلقات ماضی میں بھی کچھ بہتر نہیں رہے اور اب فائرنگ کے اس تازہ واقعے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید تناؤ آنے کا بھی خدشہ لاحق ہوگیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں